The news is by your side.

Advertisement

کراچی: لاپتہ بچوں کے کیس کی سماعت، عدالت کا پولیس تفتیش پر اظہارِ برہمی، آئی جی کو نگرانی کی ہدایت

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے لاپتہ بچوں کے کیس کی سماعت کے دوران پولیس کی تفتیش پر اظہار برہمی کرتے ہوئے آئی جی کو معاملے کی نگرانی کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں لاپتہ بچوں کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں ایک اور بازیاب بچے کو عدالت میں پیش کیا گیا، معزز جج نے تفتیشی افسر سے بچے کو دیر سے بازیاب کرانے کی وجہ دریافت کی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ جس گھر میں بچے کو رکھا گیا اُن لوگوں سے تفتیش کیوں نہیں کی گئی، پولیس کی ایسی تفتیش سے ہمیں شرم آرہی ہیے۔

مزید پڑھیں: کراچی سے لاپتہ بچوں کے کیس کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم

عدالت  نے لاپتہ بچوں کی بازیابی کے حوالے سے پولیس تفتیش کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے آئی جی سندھ کو معاملے کی خود نگرانی کرنے کا حکم دیا۔

یاد رہے کہ 21 فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ نے کراچی سے لاپتہ ہونے والے بچوں کے مقدمے میں جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے بچوں کی بازیابی کے لیے جدید آلات استعمال کیے تھے۔

عدالت نے حکم دیا تھا کہ عوامی مقامات پر بچوں کی تصاویر آویزاں کی جائیں اور اکیس مارچ کو پیشرفت رپورٹ پیش کی جائے۔

دورانِ سماعت والدین کی جانب سے دی جانے والی درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ بچوں کو مختلف علاقوں سے اغوا کیا گیا، جن کی عمریں ڈھائی سے 14سال کے درمیان ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کے اغوا کی افواہیں پھیلانے میں ایک سیاسی جماعت کردار ادا کررہی ہے، ایڈیشنل آئی جی کے انکشافات

گزشتہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ گمشدہ بچوں میں کبری، مسلم جان، رابعہ، گل شیر، ابراہیم جاوید، بوچا، عدنان محمد ،منزہ، نور فاطمہ، صائمہ، عبدالواحد، محمد حنیف، ثانیہ، سہیل خان بھی گمشدہ بچوں میں شامل ہیں۔

درخواست میں بتایا گیا کہ 20 لاپتہ بچوں میں سے اب بھی 12 بچے لاپتہ ہیں پولیس تفتیش میں تعاون نہیں کررہی، گمشدہ بچوں کی بازیابی کے لیے میکنزم بنانے کا حکم دیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں