سندھ ہائیکورٹ کا آئی جی سندھ کو کام جاری رکھنے کا حکم -
The news is by your side.

Advertisement

سندھ ہائیکورٹ کا آئی جی سندھ کو کام جاری رکھنے کا حکم

کراچی : سندھ ہائیکورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیدیا، ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت آرمی ایکٹ اور پولیس ایکٹ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو عہدے سے ہٹانے کے کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے آئی جی سندھ کوکام جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔

ایڈوکیٹ جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس پر بنیادی حقوق کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا، پولیس افسران سول سرونٹس کے زمرے میں نہیں آتے، کمیشن بنانے کی کوئی گنجائش نہیں، آئین میں وفاق وصوبوں کے اختیارات واضح ہیں، وفاق اورصوبے میں اختلاف ہوں تو سی سی آئی اوردیگر فورمز ہیں۔ وفاق اور صوبوں کو اختلافات مناسب انداز میں حل کرنا چاہئیں۔

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بھی پولیس قوانین میں حال ہی میں ترمیم کی گئی ہے، کے پی کے نے میں بھی کےپی آرڈیننس کے تحت آئی جی کا تقرر کیا، بھارت میں بھی پولیس صوبائی ریاستی معاملہ ہے، پاکستان میں بھی پولیس سربراہوں کی تعیناتی صوبے کا اختیار ہے، پولیس ایکٹ1861میں بھی آئی جی کی تقرری کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہے۔

درخواست گزار نے آئی جی سندھ کی دستبرداری پرشکوک ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کہ ممکن ہے اے ڈی خواجہ کارضاکارانہ عہدے سے الگ ہونے کا بیان دباو کا نتیجہ ہو، حقیقت جاننے کے لیے آئی جی سندھ اےڈی خواجہ کوعدالت بلایا جائے۔


مزید پڑھیں : آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی استعفے کی پیشکش


یاد رہے کہ گذشتہ روز آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے استعفیٰ دینے کی پیشکش کرکے اپنی خدمات وفاق کو واپس کرنے کی استدعا کی تھی اور کہا تھا کہ ہ گزشتہ چھ ماہ اسے انہیں کام نہیں کرنے دیا جارہا اور اس طرح کی صورتحال میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانا ممکن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ 19 دسمبر کو وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کے بعد رخصت پر چلے گئے تھے، جس کے بعد سندھ اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلافات کی خبریں گردش کرنے لگیں اور ساتھ ہی یہ تاثر ابھرنے لگا کہ آئی جی اے ڈی خواجہ اور سندھ حکومت کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات پائے جاتے تھے جس کے باعث انہیں جبری رخصت پر بھیج دیاگیا ہے۔

اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں اے ڈی خواجہ کی جبری رخصت کے خلاف درخواست بھی دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے آئی جی سندھ کو عہدے پر رہنے کا حکم امتناعی بھی جاری کردیا تھا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں