The news is by your side.

Advertisement

سندھ ہائی کورٹ کا دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کا علاج نہ کرنے پر اسپتالوں کے خلاف کارروائی کا حکم

کراچی : سندھ ہائی کورٹ نے اسپتالوں میں داخلے سے قبل مریضوں کے کرونا ٹیسٹ کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مریضوں کا علاج نہ کرنے والے اسپتالوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں اسپتالوں میں داخلے سے قبل مریضوں کے کرونا ٹیسٹ کے خلاف درخواست پر سماعت کی گئی، سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا کہ سرکاری و نجی اسپتالوں کی ایمرجنسی اور او پی ڈی کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کا علاج بھی کیا جاسکے۔

سندھ ہائی کورٹ نے مریضوں کا علاج نہ کرنے والے اسپتالوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے سی ای او ہیلتھ کیئر کمیشن کو بھی طلب کرکے تین نجی اسپتالوں سے جواب طلب کرلیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے جناح اسپتال، سول، عباسی اور دیگر سرکاری اسپتالوں سے بھی جواب طلب کیا گیا ہے۔

عدالت نے سوال کیا کہ او پی ڈی اور ایمرجنسی میں کس طرح مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے، کیا دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کا پہلے کرونا ٹیسٹ ضروری ہے؟

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غریب طبقہ علاج کیلئے سرکاری اسپتالوں کا رخ کرتا ہے، اگر سرکاری اسپتالوں کی انتظامیہ کا رویہ درست نہیں ہوا تو کیسے چلے گا؟ جناح اسپتال کی سیمی جمالی کیا کررہی ہیں، کیا انہیں اسپتال نہیں چلانا؟

جسٹس محمد علی مظہر کے ریمارکس پر وکیل نے کہا کہ کل بھی کرونا میں مبتلا پولیس اہلکار علاج نہ ہونے سے جاں بحق ہوگیا تھا۔

اسپتال انتظامیہ کا موقف ہے کہ نجی اسپتالوں میں او پی ڈی معمول کی مطابق چل رہی ہے جبکہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ نجی و سرکاری اسپتال دیگر امراض کے علاج سے پہلے کرونا ٹیسٹ کا کہا جا رہا ہے، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ کرونا رپورٹ میں تاخیر سے ہارٹ اٹیک کے مریض مررہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں