سندھ ہائی کورٹ کا پروین رحمان قتل کیس 2 ماہ میں نمٹانے کا حکم -
The news is by your side.

Advertisement

سندھ ہائی کورٹ کا پروین رحمان قتل کیس 2 ماہ میں نمٹانے کا حکم

کراچی : سندھ ہائی کورٹ نے پروین رحمان قتل کیس دو ماہ میں نمٹانے کا حکم دے دیا، پروین رحمان اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی ڈائریکٹر تھیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں پروین رحمان قتل کیس سے متعلق سماعت ہوئی، عدالتِ عالیہ نے احتساب عدالت کو حکم دیا کہ یہ کیس دو ماہ کے اندر نمٹایا جائے۔

عدالت میں لیگل برانچ کی جانب سے ڈی ایس پی خالد خان نے گواہوں کی تفصیلات پیش کیں اور بتایا کہ پروین رحمان قتل کیس میں 29 گواہ تھے، 10 کے بیانات باقی ہیں۔

پولیس حکام نے بتایا کہ گواہان کو نوٹس پہنچا دیے ہیں اور سیکیورٹی بھی دی جائے گی۔

سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ پروین رحمان کو قتل کردیا گیا اورکیس اب تک چل رہا ہے، وکلا کو بھی معاشرے میں اچھے لوگوں کا احساس ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ ملک میں اب پروین رحمان جیسی شخصیات کم ہی ملتی ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کو پروین رحمان قتل کیس 2 ماہ میں نمٹانے کا حکم دے دیا۔

یاد رہے کہ اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی ڈائریکٹر پروین رحمان کو 13 مارچ 2013 کو کراچی میں بنارس پل پر عبداللہ کالج کے قریب فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔

 ان کے قتل میں نامزد مرکزی ملزم رحیم سواتی کو مئی 2016 میں  خفیہ اطلاع پر منگھوپیر کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا ، ملزم کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے تھا اور اس کے ریکارڈ پر قبضہ گیری اور بھتہ خوری جیسے جرائم بھی موجود تھے ۔ ملزم کا کہنا تھا کہ پروین رحمان ان کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن رہی تھیں۔

گزشتہ برس پولیس نے امجد نامی ایک اور ملزم کو طویل عرصے تک ریکی کی انتھک محنتوں کے نتیجے میں گرفتار کیا تھا، پولیس کےمطابق مذکورہ ملزم کے لیے تین سال تک ریکی کی گئی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں