The news is by your side.

Advertisement

سندھ بھر کے لیکچرارز کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

کراچی : سندھ ہائی کورٹ نے سندھ بھر کے لیکچرارز کو 20 دن میں ترقیاں دینے کی ہدایت کرتے ہوئے گریڈ17سے 18کے لیکچرارزکو ترقیاں دینے کا حکم دے دیا اور تنبیہ کی کہ اگرترقیاں نہ دیں توپھرتوہین عدالت کارروائی کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں 12 ہزار سے زائد پروفیسرز، لیکچرارکو ترقیاں اور ٹائم اسکیل نہ دینے سے متعلق سندھ پروفیسر لیکچرار ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

سیکرٹری کالجز نے بتایا کہ سندھ حکومت نے ترقیاں اور ٹائم اسکیل سے متعلق پالیسی بنالی، 15 روز دیں 17 سے 18 گریڈ کے پیپر ورک مکمل کرلیں گے اور 17 سے 18 گریڈ کے پروفیسرز اور لیکچرارکو ترقیاں دے دیں گے۔

جسٹس امجدعلی سہتو نے لیکچرار سے مکالمہ کیا کہ آپ ترقیاں مانگ رہے ہیں مگر تعلیم کے معیارکو دیکھا ہے، پاکستان میں کالجر کے نتائج دیکھ لیں، سندھ کا کوئی کالج اٹھالیں ، تعلیمی معیارپتہ چل جائے گا۔

سیکرٹری کالجز کا کہنا تھا کہ ہم ترقیاں دینے کو تیار ہیں ان سے کہیں پڑھائیں بھی، جسٹس امجدعلی سہتو نے کہا تعلیمی معیار گرچکا ہے ، لیکچرارز پڑھانے کو تیار نہیں، جس پر لیکچرارز کا کہنا تھا کہ ہم تسلیم کرتے ہیں تعلیمی معیار گرا ہے۔

عدالت نے سندھ بھرکے لیکچرارز کو 20 دن میں ترقیاں دینے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ گریڈ 17 سے 18 کے لیکچرارز کو 20دن میں ترقیاں دیں اور تنبیہ کی اگر ترقیاں نہ دیں تو پھر توہین عدالت کارروائی کریں گے، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری کالجز کے خلاف توہین عدالت کارروائی ہوگی۔

خیال رہے سندھ کے لیکچرارز اور پروفیسرز نے توہین عدالت درخواست دائر کر رکھی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں