The news is by your side.

Advertisement

مونیکا لاڑک کیس: پولیس کو ہفتہ وار پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت

کراچی: خیر پور میں قتل ہونے والی مونیکا لاڑک کیس میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے پولیس کو اہم ہدایت جاری کردی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں خیرپور کےعلاقے پیرجوگوٹھ میں قتل کی گئی مونیکا قتل کیس پر از خود نوٹس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے موقع پر ڈی آئی جی سکھر او رایس ایس پی خیرپور عدالت میں پیش ہوئے جہاں انہوں نے واقعے سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی، پولیس نے اپنی رپورٹ میں عدالت کو آگاہ کیا کہ واقعے میں ایک سو چوبیس افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کیلئےنمونےحاصل کرلیےہیں، اب تک کئی مشکوک افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے، مزید کارروائی کے لئے ڈی این اے رپورٹ کا انتظار ہے۔

بعد ازاں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے پولیس کو ہفتہ وارپیش رفت رپورٹ سےآگاہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ بچی مونیکا کو خیرپور کے پیر جو گوٹھ کے علاقے میں زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا، وہ گھر سے لاپتا ہوئی تھی تاہم دو روز بعد اس کی لاش گوٹھ حادل شاہ میں کھیت سے ملی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا، بچی کا تعلق غریب گھرانے سے ہے اور وہ گھروں میں جھاڑو پوچھے کا کام کرتی تھی اور کام سے واپس آتے ہوئے اغوا ہوئی تھی۔

لاش ملنے کے بعد ڈی آئی جی سکھر فدا حسين مستوئی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، اور اہل خانہ سے تعزیت کی، انھوں نے کہا کہ شک کی بنیاد پر مزید 4 افراد کوگرفتار کیا گیا ہے، اور ڈی این اے بھی لے لیاگیا ہے، جس میں پتا چل جائے گا، اور کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے گی۔

اُسی دن ایس ایچ او پیر جو گوٹھ نے کہا تھا کہ بچی کے ورثا نا معلوم افراد پر مقدمہ درج کرانا چاہتے ہیں، انھوں نے بتایا کہ بچی پر لکڑیوں سے بھی وار کیے گئے ہیں۔ ایس ایس پی امیر سعود کا کہنا تھا کہ بچی کے جسم سے سیمپل اور فنگر پرنٹس لے لیے گئے ہیں، علاقے سے کچھ مشکوک افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے، مکمل تفتیش کے بعد جلد حقائق تک پہنچ جائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں