The news is by your side.

عدالت نے کراچی بلدیاتی انتخابات روکنے کی درخواست مسترد کردی

سندھ ہائیکورٹ نے بلدیاتی الیکشن روکنے کی ایم کیو ایم پاکستان کی درخواست مسترد کر دی الیکشن مقررہ شیڈول کے مطابق 15 جنوری کو ہی ہوں گے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے 15 جنوری کو کراچی اور حیدرآباد میں شیڈول بلدیاتی انتخابات روکنے کی ایم کیو ایم پاکستان کی درخواست مسترد کردی ہے جس کے بعد دونوں ڈویژنز میں الیکشن اپنے شیڈول کے مطابق ہی ہوں گے۔

سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ایم کیو ایم کی بلدیاتی الیکشن رکوانے کی درخواست کی سماعت کی۔

ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر درخوست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن نے جب فیصلہ کیا تھا اس وقت اس کا کورم مکمل نہیں تھا اس لیے اس فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں لہٰذا الیکشن کو روکا جائے۔

ایڈووکیٹ جنرل حسن اکبر نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان صرف الیکشن رکوانا چاہتی ہے۔ وہ یہی موقف پہلے بھی عدالت کو بتا چکی ہے اور اس نے اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج نہیں کیا۔ بار بار ایک ایک جیسی درخواستیں مختلف بینچز کے سامنے دائر کی جاتی رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے 29 اپریل 2022 کے نوٹیفیکیشن کو چیلنج کیا جا رہا ہے جب کہ نوٹیفکیشن کی قانونی حیثیت سے متعلق سندھ ہائیکورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورم سے متعلق عدالتی فیصلے آنے کے بعد ایم کیو ایم کے وکیل کا موقف حقائق کے منافی ہے۔ ہماری استدعا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے 14 نومبر کے فیصلے کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

اس موقع پر ایم کیو ایم کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے کورم پر الیکشن کے پہلے مرحلے پر بھی درخواست دائر کی تھی۔ جس پر جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ آپ صرف جواب الجواب دیں اپنا کیس آپ پہلے ہی بتا چکے ہیں۔

وکیل ایم کیو ایم نے کہا کہ میں اپنا کیس ہی بتا رہا ہوں، کورم اہم معاملہ ہے۔ جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں ہم پہلے مرحلے کے الیکشن کو بھی غیر قانونی قرار دے دیں؟ آپ کو پورا ایک گھنٹہ دے چکے ہیں اب مزید وہی باتیں مت دہرائیں۔

سندھ ہائیکورٹ نے درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کی 15 جنوری کو کراچی اور حیدرآباد ڈویژنز میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ الیکشن کمیشن کے کورم سے متعلق درخواست پر تفصیلی دلائل کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں