site
stats
پاکستان

سندھ میں عدالتوں کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی

کراچی: سانحہ پشاور کے بعد سندھ میں عدالتوں کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے، عدالت کے احاطے میں داخلے کے وقت شناخت کرانا اور تلاشی دینا لازمی قرار دے دیا گیا ہے.

تفصیلات کے مطابق سانحہ پشاور کے بعد سندھ میں عدالتوں کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ،اعلیٰ و ماتحت عدالتوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی ہے.

حفاطتی انتظامات کے پیش نظر سائلین،وکلااورمتعلقہ افراد کے لئے شناخت کرانا اور تلاشی دینا لازمی قرار دیا گیا ہے، اس کے ساتھ مخصوص اسٹیکر والی گاڑیوں کو ہی عدالتی پارکنگ میں آنے کی اجازت ہوگی۔

واضح رہے یہ احکامات ممکنہ خدشات کے پیش نظر عمل میں آئے ہیں، گذشتہ سال آٹھ اگست کو کوئٹہ میں وکلا کو ہی نشانہ بنا یا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 39 افراد لقمہ اجل بنے تھے.

سال 2014 میں بھی اس قسم کی صورتحال رونما ہوئی، 3 مارچ 2014 کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایف 8 مرکز کی کچہری میں دہشت گردی کی کارروائی میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت حسین اعوان سمیت 11افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ جاں بحق ہونے والوں میں خاتون وکیل سمیت 5 وکلاءشامل تھے، عسکریت پسند تنظیم احرار الہند نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی.

یہاں پڑھیں:کوئٹہ: اےٹی سی کےجج نذیر لانگو پر بم حملہ،ایک بچہ جاں بحق 30 افراد زخمی

نومبر 2014 میں صوبہ بلوچستان کے درالحکومت کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نزیر لانگو پر حملہ کیا گیا تھا.

وکلا کے حوالے سے سانحات میں کراچی میں 2007 میں رونما ہونے والا سانحہ کبھی فراموش نہیں‌ کیا جا سکتا ہے، اس روز پچاس سے زائد افراد قتل ڈیرھ سو کے قریب زخمی ہوئے تھے، سڑکوں پر دہشت پھیلانے والوں نے درجنوں گاڑیاں بھی راکھ کا ڈھیر بنا دیں تھیں۔

یاد رہے تحریک انصاف کی جانب سے موجودہ وزیراعظم نواز شریف پر 1997 میں سپریم کورٹ پر حملے کا الزام عائد کیا جا تا ہے.

لہذا حالیہ واقعے اور ماضی کے واقعات کے پیش نظر عدالت کے احاطے کی سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top