سکھر (21 مئی 2026): سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ نے سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کو گرمیوں میں لوڈشیڈنگ کرنے، ٹرانسفارمر اتارنے اور تاریں کاٹنے سے روکنے کا حکم جاری کر دیا۔
سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے میں جسٹس علی حیدر نے ریماکس دیے کہ سیپکو عملے کی جانب سے ٹرانسفارمر اور تاریں اتارنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، بعض صارفین کے بقایاجات کی وجہ سے پورے علاقے کی بجلی بند کرنا غیر قانونی ہے۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ بل ادا کرنے والے شہریوں کو بجلی سے محروم کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جن علاقوں کے ٹرانسفارمر اتارے گئے وہاں فوری بجلی بحال کی جائے، عوام سے ٹرانسفارمر کی مرمت کے پیسے وصول کرنے اور جعلی ڈیٹکشن بل بھیجنے کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عیدالاضحیٰ پر بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے سی ای او سیپکو کو مبینہ غیر قانونی کارروائیوں پر جامع انکوائری کا حکم دیا۔
سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ نے کہا کہ آرٹیکل 9 اور 38 کے تحت بجلی تک رسائی اور صحت مند ماحول بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہیں، توانائی کے بغیر ترقی ممکن نہیں اس لیے پورے علاقے کو بجلی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے ملوث ایس ڈی اوز اور ایکس ای اینز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔
میونسپل کارپوریشن کے مطابق سیپکو کی غیر قانونی کارروائیوں کے باعث شہر میں پانی کا بحران پیدا ہوا۔ اس پر عدالت نے کہا کہ گرمیوں کے دوران غیر قانونی اور بغیر شیڈول لوڈشیڈنگ پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔
سندھ ہائیکورٹ نے سی ای او سیپکو سے 24 جون 2026 تک تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


