The news is by your side.

Advertisement

”حکومت بالکل بے بس دکھائی دے رہی ہے“

پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ یہ حکومت بالکل بے بس دیکھائی دے رہی ہے، غیر فطری الائنس میں فیصلے کرنے کی ہمت نہیں ہے، بڑے فیصلے پاکستان کو درکار ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت آئی ہے اور اسٹاک مارکیٹ 6 ہزار پوائنٹس گری، مہنگائی اور افراط زر کی طرح 14 فیصد کو چھو رہی ہے، خدا نہ کرے پاکستان ڈیفالٹ کی طرف بڑھے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز اکنامک آؤٹ لک طے کرتی ہے، موڈیز کی پاکستان سے متعلق خبر اچھی نہیں آئی، پاکستان کا معاشی آؤٹ لک مستحکم تھا جو منفی ہوگیا ہے۔

الیکشن سے متعلق رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی بنیادی اور آئینی ذمہ داری  ہے، اس وقت الیکشن کمیشن پر دنیا کی نظریں لگی ہیں، الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کا مظاہرہ ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن کے جو 2 نئے ممبران تعینات ہوئے ہیں ان کی سلیکشن پر مشاورت برائے نام تھی، مشورہ اپوزیشن لیڈر اور لیڈر آف ہاؤس میں ہونا تھا، لیڈر آف اپوزیشن کا حکومت کے ساتھ ساز باز ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا تھا کہ الیکشن کے لیے 7 ماہ درکار ہیں، الیکشن کمشنر آج دوران سماعت کہتے ہیں کہ جب حکومت کہے گی الیکشن کرائیں گے، حلقہ بندیوں میں ازسر نو تبدیلیاں کی گئی ہیں، نئی حلقہ بندیوں سے حلقوں کی نوعیت بدل گئی ہے، جو نئی حلقہ بندیاں کی گئیں اس کا آئینی اور قانونی جواز نہیں، نئی حلقہ بندیاں ذاتی مقاصد اور خاص نتائج کئ لیئ کی گئی ہیں، نئی حلقہ بندیوں کا فائدہ کس کو ہوگا یہ سب جانتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن پر سوالیہ نشان لگ چکے ہیں، آپ نے الیکشن کرائے اور قوم نے تسلیم نہ کیا تو نیا سیاسی بحران جنم لے گا، ووٹ سے متعلق سوشل میڈیا پر شکایات کا انبار ہے، سندھ کے ایم پی اے کہتے ہیں کہ میں نے چیک کیا تو مجھے مردہ قرار دیا گیا، ایم پی اے نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے ایس ایم ایس آیا اور مجھے حدبندیوں میں مرا ہوا قرار دیا گیا، فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہو تو الیکشن کمیشن کی اپنی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں