The news is by your side.

Advertisement

شہباز شریف کا فرنٹ مین رقوم بھیجنے والی غیر ملکیوں کمپنیوں کو پہچاننے سے انکاری

لاہور : نیب رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شہباز شریف فیملی کے فرنٹ مین قاسم قیوم اورفضل داد نے ایکسچینج کمپنیوں کوپہچاننے سے انکارکردیا، ایکس چینج کمپنیوں نےسینتیس کروڑسلمان شہباز اور دیگر کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے۔

تفصیلات کے مطابق شہباز شریف فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ کی بڑے پیمانے پر تحقیقات جاری ہے، شہبازشریف خاندان کو باہرسے رقوم بھیجنےوالی کمپنیوں سے ان کے فرنٹ مین بھی لاعلم نکلے۔

نیب رپورٹ میں کہا گیا شہبازشریف خاندان کوباہرسےرقوم بھیجنےوالی کمپنیوں کو فرنٹ مین قاسم قیوم اور فضل داد نے پہچاننے سےانکارکردیا، قاسم قیوم کزن شاہدرفیق کی ایک کمپنی عثمان انٹرنیشنل کو ہی پہچان سکا جبکہ فضل داد نے کسی بھی ایکسچینج کمپنی سےمتعلق مکمل لاعملی کااظہارکیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے ان ایکس چینج کمپنیوں نےسینتیس کروڑ سلمان شہباز اور دیگر کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے ہیں، کیس میں نیب کو دس غیر ملکی منی ایکس چینجرز کا ریکارڈ مل چکا ہے، برطانیہ کی چار اور دبئی کی چھ منی ایکسچینج سے رقوم منتقل ہوئیں، اور یہ رقوم شہباز شریف، حمزہ شہباز، سلمان شہباز کو بھیجی گئیں۔

نیب دستاویزات کے مطابق دبئی میں الحسین، الزرونی، ملٹی نیٹ ٹرسٹ ایکس چینج سےرقوم منتقل ہوئیں۔ جبکہ برطانیہ میں میاں انٹرنیشنل،عثمان انٹرنیشنل،ایف ایکس کرنسی اورکروس بار شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا شریف فیملی نےمختلف ملازمین کےنام پربےنامی کمپنیاں بنا رکھی ہیں، منی لانڈرنگ کی زیادہ تررقوم بےنامی کمپنیوں میں ٹرانسفرکیجاتی تھیں۔

مزید پڑھیں: شریف خاندان کے ملازم کے انکشافات حمزہ شہباز کے گلے کا پھندہ بن گئے

یاد رہے قومی ادارہ احتساب (نیب) کی زیر حراست 2 ملزمان قاسم قیوم اور فضل داد کے انکشافات کے بعد حمزہ شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔

قاسم قیوم منی چینجر کا غیر قانونی کاروبار کرتا تھا، قاسم نے غیر قانونی طور پر اکاؤنٹ میں ڈالرز اور درہم منتقل کیے، رقم شہباز شریف، حمزہ اور سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔

دوسرا ملزم فضل داد عباسی شریف گروپ کا پرانا ملازم ہے، ملزم فضل داد سلمان شہباز کے پاس سنہ 2005 سے کام کر رہا تھا، فضل داد مختلف لوگوں سے رقوم جمع کر کے قاسم قیوم کو پہنچاتا تھا اور قاسم مشکوک ٹرانزیکشنز سے رقوم شہباز خاندان کو منتقل کرتا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں