کراچی (6 اگست 2026) ن لیگ اور پی پی اختلافات گہرے ہوتے جا رہے ہیں اگر پی پی اتحاد سے علیحدہ ہوئی تو کیا شہباز حکومت فوری گر جائے گی؟
ساڑھے چار سال اقتدار کی گاڑی میں سوار رہنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہو چکی ہیں۔ یہ جماعتیں پہلی بار دست وگریباں نہیں ہو رہیں، گلگت الیکشن سمیت اس سے قبل بھی ان میں چھوٹی موٹی جھڑپ ہوتی رہی ہے، لیکن کشمیر الیکشن میں یہ جھڑپ اب جنگ بن گئی اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو باقاعدہ اعلان جنگ کر چکے ہیں۔
آزاد کشمیر اسمبلی جس کی قانون ساز اسمبلی کی مجموعی نشستیں 45 ہیں۔ ابتدائی دو مرحلوں میں ن لیگ 23 نشستیں حاصل کر کے پہلے ہی سادہ اکثریت حاصل کر چکی ہے۔ تیسرے مرحلے کا الیکشن 10 اگست کو ہو رہا ہے، جس سے یہ اکثریت مزید بڑھ جائے گی۔
حکومت جو پہلے ہی معاشی اور امن وامان کے چیلنجز سے نبرد آزما ہے جب کہ پہلے وزیر داخلہ اور پھر ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے گورننس کی ناکامی سے متعلق بیان نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایسے میں پی پی کا طبل جنگ حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچا چکا ہے۔
پیپلز پارٹی اس وقت پارلیمان میں ن لیگ کے بعد دوسری بڑی جماعت ہے۔ اگر وہ حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو جاتی ہے تو کیا شہباز حکومت گر جائے گی؟ اس کا جائزہ ایوان میں نشستوں کے اعداد وشمار سے لیتے ہیں۔
قومی اسمبلی:
قومی اسمبلی کا ایوان 336 ارکان پر مشتمل ہے، جس میں حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت 169 درکار ہوتی ہے۔
اس وقت پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومتی اتحاد 244 نشستوں پر مشتمل ہے۔ اس میں ن لیگ کی اپنی نشستیں 132 ہیں۔ پیپلز پارٹی 74 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت ہے جب کہ ایم کیو ایم پاکستان 22، ق لیگ 5، آزاد 4، آئی پی پی 4، مسلم لیگ ضیا، باپ اور این پی کی ایک، ایک نشست ہے۔
اگر پی پی اپنے تمام 74 ارکان کے ساتھ حکومتی اتحاد سے نکل جاتی ہے تو موجودہ حکومتی اتحاد کی مجموعی تعداد 170 رہ جائے گی۔ یعنی حکومت کو سادہ اکثریت حاصل رہے گی اور شہباز حکومت فوری طور پر نہیں گرے گی۔
سینیٹ:
ایوان بالا یعنی سینیٹ کے 96 رکنی ایوان میں حکومتی اتحاد 64 نشستیں رکھتا ہے۔ اس میں سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی 26، ن لیگ 20 کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ باقی 18 نشستیں ایم کیو ایم پاکستان، آزاد، باپ پارٹی، اے این پی ودیگر جماعتوں کی ہیں۔
سینیٹ میں 64 رکنی حکومتی اتحاد دو تہائی اکثریت رکھتا ہے اور یہی برتری حکومت کو نہ صرف عام قانون سازی بلکہ آئینی ترامیم بھی با آسانی منظور کرانے کی طاقت دیتی ہے۔
اگر پیپلز پارٹی سینیٹ میں حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہوتی ہے تو پھر حکومتی اتحاد کی نشستوں کی تعداد صرف 38 رہ جائے گی، جس سے نہ صرف حکومت دو تہائی اکثریت کھو دے گی بلکہ سادہ اکثریت بھی برقرار نہ رکھ سکے گی۔
اگر ایسا ہو گیا تو پھر ایوان بالا میں قانونی سازی اور حکومتی حکمت عملی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
پی پی اپوزیشن میں بیٹھے گی یا استعفے دے گی؟ فیصلہ کب اور کون کرے گا؟ اہم خبر


