اسلام آباد (12 جون 2026): وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر متفقہ حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اب اگلے اقدامات کو حتمی شکل دینے کیلیے فریقین سے مل کر کام کر رہا ہے، امن اتنا قریب کبھی نہیں تھا جتنا اب ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے درمیان امن معاہدہ سبوتاژ کرنے والوں کی کوشش سے واقف ہیں، امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی غلط معلومات کی مہم سے پوری طرح آگاہ ہیں۔
Amid ongoing intense mediation efforts by Pakistan, we are fully aware of incessant misinformation campaign being waged by those who want to sabotage the peace deal. Setting aside the noise, we can confirm that a final, agreed upon text of the peace deal has been reached and…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 12, 2026
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت حتمی مرحلے کے قریب ترین مرحلے میں ہے
واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت حتمی مرحلے کے قریب ترین مرحلے میں ہے۔
عباس عراقچی نے کہا تھا کہ معاہدے کی تکمیل تک میڈیا سے گزارش ہے مندرجات پر قیاس آرائیاں نہ کریں، ذمہ دار اور شفاف پالیسی کے تحت تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ کا مذکورہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا تھا۔
امریکا اور اتحادیوں کے تحفظات کو ترجیح دیتے ہوئے معاہدہ ترتیب دیا گیا
عباس عراقچی کے بیان سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ ممکنہ معاہدے کے بارے میں بہت سی غلط اور گمراہ کن معلومات دیکھ رہا ہوں، ایرانیوں کو کوئی نقد رقم نہیں دی جا رہی۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ معاہدے پر دستخط یا کسی اجلاس میں شرکت کے بدلے کوئی فنڈ جاری نہیں کیا جا رہا، امریکا اور اس کے اتحادیوں کے تحفظات کو ترجیح دیتے ہوئے معاہدہ ترتیب دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو پھر پورے خطے کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے، معاہدے میں خطے کی صورتحال کو یکسر تبدیل اور دیرپا امن کی صلاحیت موجود ہے۔
’گزشتہ چند گھنٹے کے دوران رپورٹنگ میں چند عجیب باتیں بھی نوٹ کی ہیں۔ لوگ غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس پر معاہدے پر تنقید کر رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں کسی بھی طریقے سے معاہدے میں اچھے نتائج ملیں گے۔‘


