اسلام آباد (22 نومبر 2025): وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان ریلوے کی بہتری کیلیے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کر دی۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے کے امور پر اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں انہوں نے محکمے کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے حوالے سے وزیر ریلوے حنیف عباسی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔
شہباز شریف نے پاکستان ریلوے خصوصاً علاقائی روابط اور بین الاقوامی ٹرین لنکس کے منصوبوں کے حوالے سے بین الاقوامی معیار کے قانونی اور معاشی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ریلوے کی ریکارڈ آمدن کے بعد ریکارڈ بچت
اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان ریلوے کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے ’رابطہ‘ کے 7 ڈیجیٹل پورٹلز کام کر رہے ہیں، 56 ٹرینوں کو رابطہ پر منتقل کیا گیا جبکہ 54 ریلوے اسٹیشنوں کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے۔
’کراچی، لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد کے اسٹیشنوں پر مفت وائی فائی کی سہولت فراہم کی جا چکی جبکہ مزید 48 پر رواں سال 31 دسمبر تک مفت وائی فائی فراہم کیا جائے گا، فریٹ آن لائین بکنگ سسٹم متعارف کیا گیا، کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن سے ڈیجیٹل وہیئنگ برج کا پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا، اگلے مرحلے میں یہ سہولت پپری، کراچی چھاؤنی، پورٹ قاسم، لاہور اور راولپنڈی کے ریلوے اسٹیشنوں کو بھی فراہم کی جائے گی۔‘
بریفنگ دی گئی کہ راولپنڈی ریلوے اسٹیشن میں مصنوعی ذہانت سے کام کرنے والے 148 سرویلنس کیمرے نصب کیے گئے اور اسٹیشنوں پر بینکوں کی اے ٹی ایم مشینیں نصب کی جا رہی ہیں۔
ریلوے اسٹیشنوں کے صفائی ستھرائی کے معیار کو بہتر بنانے کیلیے آؤٹ سورسنگ کی گئی، بڑے اسٹیشنوں پر مسافروں کیلیے اعلیٰ معیار کی انتظار گاہیں بنائی گئیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اسٹیشنوں پر کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی کو بہتر بنانے کے حوالے سے چاروں صوبوں کی فوڈ اتھارٹیوں کو رسائی دی گئی، 4 ٹرینوں کا آؤٹ سورس کیا جا چکا ہے جبکہ جلد ہی مزید 11 ٹرینوں کو آؤٹ سورس کیا جائے گا اس حوالے سے اشتہار جاری ہو چکا ہے۔
آؤٹ سورسنگ کے باعث 8.5 ارب روپے کا اضافی ریونیو متوقع ہے، 40 لگیج اور بریک وینز کو بھی آؤٹ سورس کیا گیا جس کے باعث 820 ملین روپے کا اضافی ریونیو متوقع ہے، 2 کارگو ایکسپریس ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ بھی ہو رہی ہے جس کے باعث 6.3 ارب روپے کا اضافی ریونیو متوقع ہے۔
لاہور، کراچی، ملتان ، پشاور، کوئٹہ اور سکھر میں ریلوے اسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ پر کام جاری ہے، ریلوے کے اسکولوں، کالجوں اور ریسٹ ہاؤسز کی آؤٹ سورسنگ پر بھی کام جاری ہے۔
دوران اجلاس بتایا گیا کہ لاہور، اسلام آباد اور اذاخیل میں قائم ریلوے کے ڈرائی پورٹس بھی آؤٹ سورس ہو رہے ہیں، 155 اسٹیشنوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے، ریلوے کنسٹرکشنز پاکستان لمیٹیڈ، پاکستان ریلوے فریٹ ٹرانسپورٹیشن کمپنی اور پاکستان ریلوے ایڈوائزری اینڈ کنسلٹینسی سروس کو بند کیا جا چکا ہے۔ ریلوے کی مین لائین۔ون کے کراچی۔کوٹری سیکشن، اور مین لائین۔تھری کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دیا جا رہا ہے۔


