اسلام آباد (24 مارچ 2026): پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے مذاکرات کی میزبانی کیلیے پیشکش کا اعلان کر دیا۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، ایران امریکا میں جنگ بندی اور امن و استحکام کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں پاکستان کے کردار کی تعریف کر دی
شہباز شریف نے اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کی رضامندی سے پاکستان مذاکرات کی میزبانی کیلیے تیار ہے، جنگ کے خاتمے کیلیے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات ضروری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جامع حل کیلیے مذاکرات کی سہولت کاری کو اعزاز سمجھے گا۔
وزیر اعظم نے اپنی ٹوئٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو ٹیگ کر دیا۔
امریکا-ایران مذاکرات کیلیے پاکستان کا اہم کردار
واضح رہے کہ گزشتہ روز برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی جب کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کیا۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، مصری اور ترک وزیر خارجہ بھی امریکی نمائندے وٹکوف اور عراقی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں تھے۔
برطانوی جریدے کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے مذاکرات سے متعلق بیان کی تفصیلات نہیں بتائیں تاہم یہ کہا کہ سفارتی سطح پر بات چیت نہایت حساس معاملہ ہے۔
علاوہ ازیں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے ایران اور ترکیہ کے وزرا خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے خطے کی بگڑتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کیلیے بات چیت اور سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مسائل کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، دونوں وزرائے خارجہ نے بدلتی صورتحال پر قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
انہوں نے اس سے پہلے ترک ہم منصب خاقان فدان سے فون پر گفتگو کی جس میں دونوں رہنماوں نے خطے کی مجموعی صورتحال اور حالیہ پیشرفت کا جائزہ لیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



