The news is by your side.

Advertisement

شہبازشریف کی نگراں وزیراعظم سے جیل میں نواز شریف کو سہولیات دینے کی درخواست

لاہور : مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے نگراں وزیراعظم ناصر الملک سے جیل میں نواز شریف کو سہولتیں دینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف دل کے مریض ہیں،ذاتی معالج سے معائنہ یقینی بنایا جائے۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے نگران وزیراعظم ناصر الملک کو خط لکھا، جس میں نوازشریف کو جیل میں سہولیات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے اور کہا گیا کہ نوازشریف کو سابق وزیراعظم کے استحقاق کے مطابق سہولتیں دی جائیں۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ نوازشریف دل کے مریض ہیں،ذاتی معالج سے معائنہ یقینی بنایا جائے۔

خیال رہے کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں سزا یافتہ نوازشریف اڈیالہ جیل میں قید ہیں،  جہاں مجرم نوازشریف کو عارضی قیدی نمبر3421 اور مریم نواز کو عارضی قیدی نمبر 3422 الاٹ کردیا گیا ہے۔

جیل ذرائع کے مطابق دیگر سہولیات میں سونے کے لیے بیڈ، ٹی وی، اخبار، روم کولر اور گھر کا کھانا ملے گا، جیل میں نوازشریف، مریم نواز اور محمد صفدر کو ایک ہی کمپاؤنڈ میں رکھا گیا ہے جہاں تینوں کے کمرے الگ الگ مگر ملاقات ہوسکے گی۔


مزید پڑھیں : اڈیالہ جیل : نوازشریف اورمریم کو بی کلاس اور قیدی نمبرز الاٹ


جیل ذرائع کا کہنا تھا کہ بی کلاس میں اےسی میسر نہیں جبکہ پنکھے کی سہولت موجود ہے، کپڑوں کا سوٹ کیس بھی نواز شریف اور مریم نواز کے حوالے کردیا گیا۔

دو روز قبل نواز شریف اور مریم نواز سے شریف خاندان کے افراد نے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی، ملاقات کرنیوالوں میں نوازشریف کی والدہ، شہباز شریف، حمزہ شہباز اوردیگر افراد شامل تھے۔

یاد رہے کہ 13 جولائی کو نوازشریف اور مریم نواز کو لندن سے لاہورپہنچتے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا ، جس کے بعد دونوں کو خصوصی طیارے پر نیو اسلام آباد ایئر پورٹ لایا گیا، جہاں سے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا ۔ْ

واضح رہے احتساب عدالت نے چھ جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کو مجموعی طورپر گیارہ سال اور مریم نواز کو آٹھ سال قید بامشقت اور جرمانے کی سزا سنائی تھی اور ساتھ ہی مجرموں پر احتساب عدالت کی جانب سے بھاری جرمانے عائد کیے گئے تھے۔

فیصلے میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو 10 سال تک کسی بھی عوامی عہدے کے لیے بھی نااہل قرار دیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں