The news is by your side.

Advertisement

الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری ، شہبازشریف نےاپنے 6 نام وزیراعظم کو بھجوادئیے

اسلام آباد : مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے الیکشن کمیشن کی سندھ اور بلوچستان سے نشستوں کےلئے اپنے چھ نام وزیراعظم کو بھجوا دئیے اور کہا انتخاب کیلئے ہر امیدوار پر تفصیلی باہمی مشاورت ضروری ہے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں سندھ اوربلوچستان کےارکان کی تقرری کے معاملے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے نظرثانی شدہ نام وزیراعظم عمران خان کو بھجوا دیئے۔

شہبازشریف نے وزیراعظم عمران خان کو نئےخط میں نام پیش کئے، خط میں سندھ سے سابق صدر سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن خالد جاوید، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس (ر) عبدالرسول میمن اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے نورالحق قریشی کے نام شامل ہیں ، بلوچستان سے سابق ایڈووکیٹ جنرلز صلاح الدین مینگل اور محمد روف عطاءکے علاوہ سینئر ایڈووکیٹ شاہ محمود جتوئی کے نام تجویز کئے گئے ہیں۔

شہباز شریف نے خط میں کہاکہ نامزد کردہ افراد کی ساکھ برقرار رکھنے کے لئے رازداری سے بالمشافہ اور براہ راست بات چیت مناسب آئینی طریقہ کار ہے۔

وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ بدقسمتی اور افسوس کی بات ہے کہ آپ نے ہمارے نامزد کردہ افراد کے بارے میں براہ راست جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کئے۔

خط میں کہا کہ ہمارے نامزد کردہ ایک فرد کا نام 11مارچ 2019کو آپ کی جانب سے وزیر خارجہ کے پہلے بھجوائے گئے خط میں بھی موجود ہے۔

شہباز شریف نے خط میں اعتراض میں کیا کہ اب آپ کے خط میں اسی نامزد کردہ شخصیت کو ”نااہل“ قرار دیاگیا ہے، آپ کے نامزد کردہ افراد پر بھی اسی نوعیت کے الزام باآسانی لگائے جاسکتے ہیں لیکن ہم کسی کی پگڑی اچھالنے پر یقین نہیں رکھتے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا ایسی تہمت بازی سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ اس طرح کے رویہ سے افراد کی حوصلہ شکنی ہوگی،آپ کے نامزد کردہ افراد کے بارے میں ابتدائی پڑتال کرلی ہے، آپ کے فراہم کردہ ’سی ویز‘ مجھے حتمی رائے بنانے میں مدد دیں گے ۔

وزیراعظم کولکھے گئے خط میں اصرارکیا کہ میری دانست میں آئین اور عدالت عظمی کے فیصلوں کی رہنمائی میں ہمیں آگے بڑھنا چاہئے، دستور اور سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں براہ راست گفتگو کے ذریعے سنجیدہ، بامقصد اور مخلصانہ کوشش سے ہر فرد کی اہلیت جانچی جائے۔

قائد حزب اختلاف کے وزیراعظم کو خط میں متعدد عدالتی نظائر اوردستور کی شق 213 دواے کے متعلقہ حصے بھی نقل کئے گئے ہیں۔

خط میں موقف اختیار کیا گیا آپ کے چھ مئی دوہزارانیس کے خط سے مایوسی ہوئی، سات اپریل کے خط میں میری پیش کردہ معروضات کو نظرانداز کیاگیا، اپنے خط کے حصہ تین میں کہہ چکا ہوں کہ میں اس معاملے میں قانونی تنازعہ مزید بڑھانا نہیں چاہتا، اس لئے ایک بارپھر نکتہ وار جواب دے رہا ہوں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں