The news is by your side.

Advertisement

حکومت کے او آئی سی میں نہ جانے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں، شہباز شریف

اسلام آباد : اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت کے او آئی سی میں نہ جانے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں ، بہت اچھاہوگا اگرکچھ دوست ملک پاکستان کےحق میں بیان دیں۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا وزیرخارجہ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ایوان کی رائے کو مقدم جانا اور اس ایوان کی رائے پر انہوں نے او آئی سی کو پھر خط لکھا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کے او آئی سی میں نہ جانے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں ، بہت اچھا ہوگا اگر کچھ دوست ممالک پاکستان کے حق میں بیان دیں گے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا پاکستان کیلئےگرانقدر خدمات انجام دینے والوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی تھے۔

اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (او آئی سی) کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بھارت او آئی سی کا رکن ہے نہ مبصر، درخواست کی تھی کہ بھارتی وزیر خارجہ کو بلانے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

مزید پڑھیں : پاکستان کا او آئی سی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کل کی صورتحال کے بعد میں نے ایک اور خط لکھا ہے، 26 فروری کو بھارتی وزیر خارجہ کو مدعو کرنے پر بھی خط لکھا تھا۔ ایک بار پھر سشما سوراج کو دعوت نامہ واپس لینے کی درخواست کی، بتایا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو میرا اجلاس میں شرکت کرنا ممکن نہ ہوگا، ’میں او آئی سی کے وزارئے خارجہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کروں گا‘۔

گذشتہ روز اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا تھا کہ جنگیں کسی مسئلےکاحل نہیں ہوتیں آخرمیں ٹیبل پربیٹھناہوتاہے۔مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے، بھارت کو کشمیریوں کو ان کا حق دینا ہوگا، حق نہیں دیا تویہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں