The news is by your side.

Advertisement

رانا ثنا اللہ کے پاس خریداری کے لیے اربوں روپے کہاں سے آئے، شہریار خان آفریدی

اسلام آباد: وزیرمملکت برائے سیفران و انسداد منشیات شہریار خان آفریدی نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے پاس خریداری کے لیے اربوں روپے کہاں سے آئے، رانا ثنا اللہ اثاثے خریدتے رہے بیچے نہیں تو پیسے کہاں سے آئے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرمملکت شہریار خان آفریدی نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کو اے این ایف نے منشیات سمیت گرفتار کیا، ثبوتوں میں برآمد ہیروئن، اسلحہ، رپورٹ اور2 درجن قریب گواہان ہیں۔

شہریار خان آفریدی نے کہا کہ ملک کا پہلا ٹرائل ہوگا جس میں ایک بھی گواہ طلب نہیں کیا گیا، ہم نے قانون کے تحت ملزمان کو کاپیاں فراہم کیں۔

انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے پاس خریداری کے لیے اربوں روپے کہاں سے آئے، رانا ثنا اللہ اثاثے خریدتے رہے بیچے نہیں تو پیسے کہاں سے آئے۔

وزیرمملکت نے کہا کہ ہمارے گواہان کی زندگی کو خطرہ ہے، وکیل پرحملہ ہوا، گواہان کو بھی خطرہ ہے، آئی جی پنجاب فوری طور پر گواہان کو تحفظ فراہم کریں۔

شہریار خان آفریدی نے کہا کہ آئین کے تحت وردی والے اہلکار پر آئین میں بھی تنقید نہیں کی جاسکتی، رانا ثنا اللہ کھلےعام اے این ایف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

وزیرمملکت نے کہا کہ اےاین ایف کی ٹیم پرلاہور میں حملہ ہوا، اے این ایف اہلکاروں کو دی جانے والی دھمکیوں کا نوٹس لیا جائے۔ رانا ثنااللہ کا مقدمہ اے این ایف کے لیے ٹیسٹ کیس ہے۔

انہوں نے کہا کہ کون سی ایسی طاقتیں ہیں جو کھلےعام منشیات فراہم کر رہی ہیں؟، دنیا کی نظریں پاکستان اور پاکستان کے اداروں پر ہیں، اےاین ایف کی کارکردگی پر دنیا فخر کرتی ہے۔

اے این ایف نے رانا ثنا اللہ کو حراست میں لے لیا

یاد رہے کہ رانا ثنا اللہ کو یکم جولائی کو انسداد منشیات فورس نے اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے موٹر وے سے حراست میں لیا تھا، رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے بھاری مقدار میں ہیروئن برآمد ہوئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں