The news is by your side.

Advertisement

خواتین کے نام پر پیسے منگوائے جائیں گے تو پھر سوال تو ہوگا، شہزاد اکبر

اسلام آباد : وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ گھریلو خواتین سب کیلئے قابل احترام ہیں لیکن اگر خواتین کے نام پر پیسے منگوائے جائیں گے تو پھر سوال تو ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں وزیر اطلاعات فواد چودھری کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ نیب ٹیم دوبار حمزہ شہباز کے گھر گئی گرفتاری تو دور کی بات گھر میں داخل بھی نہ ہوسکی، بدعنوانی کی تحقیقات بھی قومی فریضہ ہے۔

کرپشن کرنے والے عناصرسے قانونی پوچھ گچھ نیب کی ذمہ داری ہے، پاکستان میں معاشی مسائل کی ساری ذمہ داری انہی کرپٹ عناصر پر عائد ہوتی ہے، نیب تحقیقات کرکے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے، حکومت پر جب بھی الزامات لگائے جائیں گے اس پر جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت احتساب کا مینڈیٹ لے کرآئی ہے اور احتساب ادارے کررہے ہیں، حکومت جو کردار ادا کرسکتی ہے وہ صرف نیب نہیں تمام اداروں کیلئے ہے، قوم چاہتی ہے احتساب کا عمل منطقی انجام تک پہنچے۔

شریف فیملی کے لوگ نیب تحقیقات میں کسی ایک سوال کا جواب بھی نہیں دے پائے، پراسیکیوٹنگ ایجنسیز سے بھی حکومت تعاون کررہی ہے، حکومت اداروں کی اونرشپ لے گی تو پراسیکیوشن کا عمل بہتر ہوگا۔

بیرسٹر شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ آج پریس کانفرنس دس روز میں حکومت پرلگائے گئے الزامات کے جواب میں کی، نیب آزاد ادارہ ہے اس کے دفاع کے لئے پریس کانفرنس نہیں کی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اداروں کی اونر شپ کیلئے کابینہ کو بھی حکومتی اقدامات کامشورہ دوں گا، منی لانڈرنگ کے موجودہ قوانین کے اطلاق میں بھی سقم کا سامنا ہے، آج فنانشل مانیٹرنگ یونٹ بہت فعال ہے، ماضی میں منی لانڈرنگ کی نشاندہی کرنے والےاداروں کو کام نہیں کرنے دیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں