The news is by your side.

Advertisement

نام ور ادیب، شاعر اور دانش ور شیخ ایاز کا یومِ وفات

اردو اور سندھی کے نام ور شاعر، ادیب اور دانش وَر شیخ ایاز 28 دسمبر 1997ء کو وفات پاگئے تھے۔ وہ ماہرِ قانون اور ماہرِ تعلیم بھی تھے جنھوں نے سماج، سیاست اور ادب میں‌ اپنے فکر و فلسفے سے ایک نسل کو متاثر کیا اور دوسروں کے لیے مثال بنے۔

شیخ ایاز کا اصل نام شیخ مبارک علی تھا جو 1923ء کو شکار پور کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ شیخ ایاز کو تعلیمی اداروں میں بائیں بازو کے نظریات کے حامی ادیبوں اور سیاست دانوں سوبھو گیان چندانی، گوبند مالھی، ابراہیم جویو اور دیگر کی صحبت نصیب ہوئی جس نے انھیں عملی میدان میں‌ مختلف نظریات اور جدوجہد پر آمادہ کیا۔ وہ ترقی پسند ادب اور مختلف سیاسی اور حقوق سے متعلق تحریکوں کا زمانہ تھا اور شیخ ایاز ان سے وابستہ رہے اور نہایت فعال اور سرگرم کردار ادا کیا۔

انھوں نے سندھی اور اردو زبانوں میں ادب تخلیق کیا اور 1946ء میں ان کی مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’سفید وحشی‘‘ کے نام سے آیا اور یہ سلسلہ کئی مجموعہ ہائے کتب تک دراز ہوگیا۔ وہ نثر ہی نہیں نظم کے میدان میں بھی نام ور ہوئے۔ ان کی انقلابی شاعری تقسیم سے پہلے ہی مشہور ہوچکی تھی۔

ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’’بھور بھرے آکاس‘‘ 1962ء میں پاکستان رائٹرز گلڈ کے زیر اہتمام شایع ہوا۔ یہ مجموعہ حکومت کی پابندی کی زد میں آیا۔ دوسرا شعری مجموعہ ’’کلھے پاتم کینرو‘‘ 1963ء میں آیا اور اس پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ اردو شاعری کے مجموعے بوئے گل نالۂ دل، کف گل فروش اور نیل کنٹھ اور نیم کے پتے کے نام سے شایع ہوئے۔

شیخ ایاز کا ایک بڑا کارنامہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مجموعہ کلام ’’شاہ جو رسالو‘‘ کا اردو ترجمہ ہے جس سے شاہ لطیف کا پیغام اردو بولنے والوں تک پہنچا اور مقبول ہوا۔ شیخ ایاز کی تقاریر کے مجموعے بھی شایع ہوئے ہیں‌ جب کہ ان کے مضامین اور یادداشتوں کے علاوہ دوسری کتب قابلِ ذکر ہیں۔

انھیں شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مزار کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں