The news is by your side.

Advertisement

بے گھر….

میرا باپ اور دادا بھی یکتائے روزگار کردار تھے، لیکن میں نے اپنے دادا کے بھائی کے متعلق ایک بات سنی تھی جو کبھی نہیں بھول پاتا۔

وہ ایک درویش صفت انسان تھا۔ ہر رات وہ ملتانی مٹی کے ساتھ نیبو کے پتے بھگو کر رکھتا تھا اور منہ اندھیرے دو میل پیدل چلتے ہوئے شکار پور کی لال حویلی کے قریب ایک کنویں پر جا کر نہاتا تھا۔ چاہے کتنی بھی شدید سردی ہو وہ نہانے ضرور جاتا تھا۔

ایک بار وہ جاڑے میں نہا کر گھر لوٹا تو اسے قمیص پر ایک چیونٹی نظر آئی۔ اس نے چیونٹی کو احتیاط سے پکڑ کر ایک شیشی میں رکھا اور میری دادی سے کہا ”میں کنویں پر جا رہا ہوں“

”کیوں! ابھی تو آئے ہو؟“ میری دادی نے حیرت سے پوچھا۔

”یہ چیونٹی میرے کپڑوں پر اسی کنویں کے قریب چڑھی ہے اس کا گھروندا اسی کنویں کے آس پاس ہوگا، میں اسے اس کے گھر پہنچانے جارہا ہوں۔“ میرے دادا کے بھائی نے جواب دیتے ہوئے کہا۔ ”کسی کو بھی اس کے گھر سے بے گھر کرنے جیسا بڑا گناہ دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے۔“

(شیخ ایاز کی ڈائری سے ایک ورق، مترجم ہیں‌ مصطفیٰ ارباب)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں