بدھ, جون 10, 2026
اشتہار

شیخ محمد اقبال: علم و ادب کی دنیا کا ایک معتبر نام

اشتہار

حیرت انگیز

فکر و فن، علم و ادب کی دنیا کے کئی نام ایسے ہیں‌ جن کا تذکرہ اب شاذ ہی ہوتا ہے، لیکن وقت کی گردش میں جن چہروں کی پہچان ہمارے لیے آج مشکل ہوگئی ہے، ان کے کارناموں کو علمی و ادبی تاریخ فراموش نہیں کرسکتی۔ پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال انہی نہایت قابل اور باصلاحیت شخصیات میں سے ایک ہیں جنھوں نے بالخصوص فارسی زبان و ادب میں بے مثال کام کیا۔ آج پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کا یومِ وفات ہے۔

پروفیسر شیخ محمد اقبال فارسی زبان و ادب کے ایک زبردست عالم، محقّق اور مترجم تھے۔ انھوں‌ نے تالیف و تدوین کے علاوہ متعدد اہم کتابوں کے تراجم بھی کیے۔ 21 مئی 1948ء کو ڈاکٹر صاحب لاہور میں انتقال کرگئے تھے۔ ان کا نام متحدہ ہندوستان میں ایک ماہرِ تعلیم کی حیثیت سے بھی مشہور تھا۔ ان کے صاحب زادے داؤد رہبر نے بھی فن و ادب کی دنیا میں بطور شاعر، نثر نگار اور ماہرِ موسیقی شہرت پائی اور ان کی متعدد تصانیف مقبول ہوئیں۔ شیخ محمد اقبال رشتے میں پاکستان کے مشہور صدا کار اور آرٹسٹ ضیاء محی الدّین کے تایا تھے۔ ان کا تعلق جالندھر سے تھا جہاں 19 اکتوبر 1894ء کو پیدا ہونے والے شیخ محمد اقبال نے ابتدائی زمانۂ تعلیم کے دوران ہی زبان و ادب میں دل چسپی لینا شروع کردی تھی۔ انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے عربی میں ایم اے کیا اور مزید تعلیم کے حصول کے لیے کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ وہاں مشہور مستشرق پروفیسر ای جی براؤن کے زیرِ نگرانی شیخ محمد اقبال نے فارسی میں پی ایچ ڈی کیا۔ عملی زندگی میں قدم رکھا تو 1922ء میں اورینٹل کالج لاہور سے وابستہ ہوئے۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کو بعد میں فارسی کے صدرِ شعبہ اور پرنسپل کے عہدے پر بھی خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ انھوں نے ادارہ کے بہترین منتظم اور اپنے شعبے میں‌ خود کو ماہرِ تعلیم کی حیثیت سے منوایا۔ اس حیثیت میں کام کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب علمی و ادبی مشاغل میں‌ بھی منہمک رہے اور بطور مؤلف و مدون قابلِ قدر کام کیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں