The news is by your side.

Advertisement

آج شیخ رشید کی65 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

اپنے اسکول کے دور سے سیاست کے پُرخار راستے پر عوامی طرز سیاست کرنے والے شیخ رشید آج 65 سال ہو گئے ہیں ان 65 سالوں میں وہ سیاست کی پھیکی دنیا میں ظرافت،طنز اور دبنگ اسٹائل کے باعث عوام میں مقبولیت رکھتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی تاریخ کے مشہور ترین کنوارے سیاست دان کی 65 ویں سالگرہ آج راولپنڈی میں منائی گئی وہ 6 نومبر 1950 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور زمانہ طالب علمی سے ہی اس شہر سے اپنی سیاسی جدو جہد کا آغاز کیا اور نہایت ہی کم عمری میں اسیری بھی کاٹی۔

sheikh-rasheed-post-2

اس اسیری کے دوران انہوں نے سیاست کو ہی مقصد زندگی بنانے کا اٹل فیصلہ کر لیا اور جیل میں رہتے ہوئے بھی اپنے سیاسی نظریات کا پرچار کرتے رہے اور رہائی کے بعد گلی محلوں کی سیاست میں بھر پور حصہ لیا اور آج تک خود سے کیے گئے وعدے پر قائم ہیں۔

sheikh-rasheed-post-3

گریجویشن کے بعد انہوں نے ایک فیکٹری میں بھی کام کیا لیکن سیاست سے جڑے رہے 80 کی دہائی میں پاکستان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے میونسپل سطح کی سیاست میں حصہ لینے کے بعد 1985 میں پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے،وہ اپنے عوامی طرز خطاب اور ذو معنوی جملوں کی وجہ سے کسی بھی جلسے کی کامیابی سمجھے جاتے ہیں۔

sheikh-rasheed-post-1

سیاسیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کے بعد ان کے سیاسی داؤ پیچ میں مزید مہارت آ گئی اور وہ جلد اپنے قائدین کے خاص لوگوں میں شمار ہونے لگے،پنجاب کی سیاست میں شاید وہ واحد شخصیت ہوں گے جن کا تعلق کسی سیاسی گھرانے سے نہ تھا اور نہ ہی وہ کسی جاگیردار،وڈیرے یا کسی پیر کے گدی نشین تھے۔

sheikh-rasheed-post-4

اس کے باوجود شیخ رشید نے سیاست کے پیچ و خم کو نہایت کامیابی سے پار کیا اور اپنے قائد نواز شریف کے نہایت با اعتبار اور قریبی ساتھی تصور کیے جانے لگے موروثی سیاست کے درمیان انہوں نے اپنا الگ اور منفر مقام اپنے ہی زورِ بازو سے حاصل کیا جو کم ہی سیاست دان کر پائے ہیں۔

تا ہم 2002 میں شیخ رشید نے اپنے قائد میاں نواز شریف سے راہیں جدا کر کے جنرل مشرف کے ہاتھ مضبوط کرنے کا ارادہ کیا اور 2002 سے 2006 تک وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی ذمہ داریاں نبھائیں اس دوران پاکستانی میڈیا میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا اور میڈیا سرکار کے چنگل سے نکل کر جدیدیت کی طرف گامزن ہوا اور اس دوران کئی نئے ٹی وی چینلز سامنے آئے جنہیں آزادی رائے اظہار کا بہترین موقع بھی میسر آیا۔

بعد ازاں انہیں وفاقی وزیر ریلوے بھی مقرر کیا گیا اور انہوں نے اپنے دورِ وزارت 2006 تا 2007 میں ریلوے ملازمین کی فلاح و بہبود کے حوالے سے انقلابی اقدامات کیے اور چند نئی ٹرین سروسز بھی متعارف کرائیں تا ہم یہ ناکافی ثابت ہوئے اور محکمہ ریلوے مطلوبہ ترقی حاصل نہیں کرسکا۔

سات مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے شیخ رشید نے 2008 کا انتخابات میں اپنی علیحدہ جماعت عوامی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے لڑا تا ہم وہ کامیاب نہ ہو سکے اور 2013 میں تحریک انصاف کے ساتھ مل کر الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے اس کے بعد سے اب تک شیخ رشید اپوزیشن جماعتوں میں سب سے زیادہ متحرک اور مضبوط لیڈر ثابت ہوئے ہیں۔

VIDEO: Sheikh Rasheed Arrives On Motorbike by arynews
نواز حکومت کے خلاف حالیہ تحریک کے دوران شیخ رشید جس طرح تمام ناکے اور پہرے توڑ کر موٹر سائیکل پر کمیٹی چوک پہنچے وہ بھی انہی کا خاصہ تھا جب کہ دیگر اپوزیشن لیڈرز اپنے اپنے گھروں میں محفوظ بیٹھے تھے،شیخ رشید کی انہی عوامی طرز سیاست اور عوامی انداز گفتگو کے باعث پاکستانی سیاست میں منفرد مقام بنا چکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں