The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف این آر او کے خواہاں اور بیٹوں کو ملک سے باہر بھیجنا چاہتے ہیں، شیخ رشید

اسلام آباد : سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے کہا ہے کہ نوازشریف این آر او کے خواہاں ہیں تاکہ کسی طور وہ بچ نکلیں اسی لیے وہ حسین نواز اور حسن نواز کو بھی ملک سے باہر بھیجنا چاہتے ہیں.

وہ اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں میزبان ماریہ میمن کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے انہوں نے کہا کہ نوازشریف کمپنی کی مشہوری کیلئے کسی ہلکے پھلکے ریفرنس میں جیل جانا پسند کریں گے اس لیے وہ ذہنی طور پر جیل جانے کے لیے تیار ہیں.

شیخ رشید نے اعلان کیا کہ میں سپریم کورٹ میں نواز شریف کے خلاف جاؤں گا اس کے لیے لطیف کھوسہ سے بھی ملاقات ہوئی ہے اور مجھے یقین ہے کہ نیب ریفرنس میں یہ لوگ بے نقاب ہو جائیں گے.

انہوں نے کہا کہ ابھی تک آصف زرداری ٹھیک طرھ کی باتیں کر رہےہیں لیکن کل آصف زرداری کا کیا کہنا ہوگا اس کا مجھے پتہ نہیں ہے تاہم میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ سندھ میں حالات اچھے نہیں کل ہی سکھر سے آیا ہوں وہاں پینےکا پانی اور بچوں کے لیے اسکول تک نہیں ہے، ظلم ہو رہا ہے اور اللہ بہترجانتا ہے کہ اس نظام سے کب نجات ملےگی.

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ووٹ کا تقدس پامال کیا ہے جو 4 حلقے کھلے ہیں وہ چاروں بدبودار نکلے ہیں انہوں نے سیاست میں نوٹوں کی بوریاں متعارف کرائی ہیں اس بزنس مین سیاست دان نے دولت کے انبار لگانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا قوم نےبہت سزابھگت لی،کمیشن خوروں سےنجات چاہئے.

شیخ رشید نے کہا کہ نواز شریف نے ضیاء کے ساتھ مل کر اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو جیسے شریف آدمی کا دھڑن تختہ کیا اور خود مسلم لیگ پر قابض ہو گئے نوازشریف کےدماغ میں خرابی ہے جس نے ایک شریف انسان کی حکومت کو گرانے میں ضیاء الحق کی مدد کی لیکن اب ان کی سیاسی موت واقع ہو چکی ہے.

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا دعوی ہے کہ مجھے ہٹا دیا تو انقلاب آجائے گا یا ملک میں غیر یقینی کیفیت قائم ہوجائے گی، ان لوگوں نے سیاست کے دلدل میں جمعہ بازار لگایا اور پاناما کیس میں بھی اپنی مرضی کا فیصلہ لانے کے لیے ججز کوخریدنے کی ناکام کوشش کی.

شیخ رشید نے کہا کہ یہ ہر روز روشن دان سے منہ نکال کر کہتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں نکالا ؟ میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ کے کرتوت ایسے تھے اس لیے نکالا اب یہ ملک سے بھاگیں گے اور وہ اب بچنے والے نہیں ہیں.

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ایل این جی معاہدے میں پارٹنرہیں اور اگر میں جھوٹا ہوں تو شاہد خاقان عباسی ایل این جی معاہدے پر مجھ پر کیس کریں میں نے وزیراعظم سے پوچھا کہ ایل این جی کا معاہدہ کہاں ہے تو انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں ہے جس پر میں نے اسپیکر سے معلوم کیا تو جواب میں ملا کہ یہاں اسمبلی میں نہیں ہے.

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف حدیبیہ کیس میں نہیں بچ سکیں گے اور وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ کوئی این آر او ہوجائے لیکن اب ایسا نہیں ہو گی اور کرپشن کا تابوت نکلے گا اور ان کی کرپٹ سیاست ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گی.

انہوں نے کہا کہ میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ان کی سیاست اور کرپشن کا جنازہ سپریم کورٹ سے نکلے گا اور عید سے پہلے قربانی ہوجائے گی لیکن پچھلی عید پر قصائی چھٹیوں پر چلے گئے تھے تو اس لیے اس سال قربانی ہوئی لیکن جو ہوا ملک و قوم کے لیے بہت اچھا ہوا.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں