The news is by your side.

Advertisement

چھوٹےچھوٹےاختلاف ہوسکتے ہیں، مگر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا صفحہ ایک ہی ہے، شیخ رشید

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ چھوٹےچھوٹےاختلاف ہوسکتےہیں،مگر حکومت اوراسٹیبلشمنٹ کاصفحہ ایک ہی ہے،اپوزیشن چاہتی ہےعمران خان اور فوجی قیادت کے تعلقات خراب ہوں،مگر اسٹیبلشمنٹ بھولی ہے نہ عمران خان۔

تفصیلات کے مطابق وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا آئندہ 2ماہ تک دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے، بلوچستان ، کے پی سرحد پرسلیپرز سیلزپھر سرگرم ہوگئے ہیں۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ جوہرٹاؤن دھماکے میں بھارتی ایجنسی را کےملوث کےثبوت ہیں تاہم انارکلی بازاردھماکےمیں مطلوب شخص تاحال پکڑا نہیں جاسکا۔

نواز شریف کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ نوازشریف کی واپسی کے کام پرلگےہیں، ہماری غلطی تھی کہ خود بھیجا، نوازشریف ہم سب کی آنکھوں  میں  دھول جھونک کر باہر چلے گئے۔

شہزاد اکبر کے استعفیٰ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر کے استعفے کی وجہ نواز یا شہباز نہیں ، پیسے واپس نہ لانا بھی ہے، اربوں کی کرپشن ہوئی،ایک ایک ملازم کےاکاؤنٹ سے4،4ارب نکل رہے ہیں، شہباز شریف پر 16 ارب کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے مگرہم پیسے نہیں لا سکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان میں ارادے کی کمی نہیں، وہ کہتے ہیں این آر او دینا غداری ہو گی، فوج اور حکومت کی سوچ میں اختلاف ہوسکتاہے مگر صفحہ ایک ہی ہے، میں نے اسٹیبلشمنٹ کا نام نہیں لیا، میرا مطلب تھا حکومت اوراداروں کی پالیسیاں ایک ہی صفحے پر ہیں۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نہیں حکومت کے ایک شخص نے بیان واپس لینے کو کہا، زیادہ خطرناک ہونےکی بات میں اسٹیبلشمنٹ کوپیغام کاتاثرغلط ہے، اپوزیشن چاہتی ہے عمران خان اور فوجی قیادت کےتعلقات خراب ہوں، مگرنہ اسٹیبلشمنٹ بھولی ہے نہ عمران خان بھولا ہے، ملک کا فائدہ اسی میں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ایک صفحے پر ہوں۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ عمران خان انسداد کرپشن اور احتساب کے معاملے پر ڈٹے ہوئے ہیں، وزیراعظم کئی افراد کوپارٹی یاعہدوں سے کرپشن الزام میں فارغ کرچکے، عمران خان اس سے زیادہ تو کچھ نہیں کرسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ کرپشن فیصلوں پر حکم امتناع ہے، شاید ہم نے درست تیاری نہیں کی، احتساب عمران خان کا بڑا نعرہ تھا مگر وہ کامیابی نہیں ملی جوملنی چاہیے تھی۔

شیخ رشید نے کہا کہ برطانیہ سے ملزمان ،مجرموں کی واپسی کیلئے معاہدے کی کوشش کررہےہیں، شکایت ہے بہت سی کوششوں کے باوجوداسحاق ڈارکوواپس نہ لاسکے۔

کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالے سے قمحسوس ہوتا ہے افغان طالبان کا کالعدم ٹی ٹی پی پر زور نہیں چلتا، کالعدم ٹی ٹی پی کے کچھ لوگ داعش میں شامل ہو گئے ہیں،کالعدم ٹی ٹی پی نےسرحدی باڑ پر اعتراض اور قیدیوں کی رہائی کامطالبہ کیا، خطرناک قیدیوں کی رہائی ممکن نہیں،کالعدم ٹی ٹی پی مطالبات مانےنہیں جاسکتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں