The news is by your side.

Advertisement

‘بِکنے والے ارکان سے کہتا ہوں‌ واپس آ جائیں کچھ نہیں‌ کہا جائے گا’

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے منحرف ارکان کو ایک میڈیا بریفنگ میں پیغام دیا ہے کہ ‘تمام ناراض، منحرف اور بِکنے والے ارکان سے کہتا ہوں‌ واپس آ جائیں کچھ نہیں‌ کہا جائے گا۔’

شیخ رشید احمد نے کہا کہ مفاد پرست اور ضمیر فروش جب اپنے حلقوں میں جائیں گے تو انھیں پتا لگ جائے گا، میں جمہوریت کی بساط لپیٹنے میں آگے نہیں ہوں گا، میں کسی سے رابطے میں نہیں ہوں، اور عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں۔

شیخ رشید نے کہا عدم اعتماد آپ کا آئینی حق ہے آئیں اور اپنا ووٹ کاسٹ کریں، بطور وزیر داخلہ یقین دلاتا ہوں کسی کو سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں ہوگا، پنجاب ہاؤس میں بھی پنجاب پولیس ہے، اسی طرح سندھ ہاؤس میں بھی ایک حد تک پولیس رکھیں، وزارت داخلہ شورٹی دیتی ہے ہم سندھ ہاؤس میں نہیں جائیں گے، ہمیں سندھ ہاؤس میں دہشت گردی کی کیا ضرورت ہے، ہمیں پہلے سے اطلاعات ہیں ہمارے 10 سے 12 لوگ کہاں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سندھ ہاؤس کو اسٹاک ایکسچینج بنا دیا گیا ہے، ضمیر کی خرید و فروخت کی اسٹاک ایکسچینج میں بدبو پھیل رہی ہے، منحرف ارکان واپس آ جائیں تاکہ ری پینٹ کر دیا جائے، یہ لوگ اپنے حلقوں میں جائیں گے تو کہیں لوگ منہ کالا نہ کر دیں۔

شیخ رشید کا کہنا تھا جو کچھ سندھ ہاؤس میں ہو رہا ہے میں اس کی وجہ سے سندھ میں گورنر راج لگانے کا حامی تھا، گورنر راج کی سمری پیش کر دی مگر آج فیصلہ نہیں ہوا، کچھ تلخی ہوئی تھی مگر اب حالات بہتری کی طرف آ رہے ہیں، معاملہ تصادم پر گیا تو اپوزیشن کو غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے کہا آج کیمرے نہ ہوتے تو ان کو اپنے علاقوں سے دباؤ نہ ہوتا، منحرف ارکان کے حلقے کے لوگ فون کر کے کہہ رہے ہیں کہ گھبرائیں نہیں یہ عمران خان کو ووٹ دیں گے۔

انھوں نے کہا انٹرنیشنل انویسٹرز نہیں چاہتے کہ پاکستان میں آزاد خارجہ پالیسی ہو، عالمی قوتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان روس اور چین کے ساتھ کھڑا ہو، لیکن پاکستان اپنے میک اور بریک سے گزر رہا ہے، میری دعا ہے کہ عمران خان جیت جائے، میں جمہوریت کی بساط لپیٹنے میں آگے نہیں ہوں گا۔

انھوں نے مزید کہا اپوزیشن کا بھی ایک جلسہ ہے، اس کے بعد وزیر اعظم کا جلسہ ہے، چاہتے ہیں باہمی افہام و تفہیم سے راستوں اور جلسوں کا حل نکال لیں، ڈی سی سے کہا اپوزیشن، اور حکومتی قیادت سے مل کر جلسوں اور راستوں کا تعین کریں، میڈیا پر عدم اعتماد، وزیر اعظم کا جلسہ، اسلاموفوبیا کی باتیں ہو رہی ہیں، اس بات کو نہ بھولا جائے کہ غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں