The news is by your side.

Advertisement

نادان منشی

ایک منشی خاصے عرصے سے بیروزگار تھا اور بہت پریشان تھا۔ ایک دن وہ شیخ سعدی کے پاس گیا اور اپنا حال بیان کرنے کے بعد کہا کہ آپ کی بادشاہ کے دربار تک رسائی ہے، کسی سے کہہ سُن کر کوئی کام دلوا دیں۔ اس کی بات سن کر شیخ صاحب نے کہا، بھائی، بادشاہوں کی ملازمت خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔ نان ہاتھ آنے کی امید کے ساتھ جان جانے کا امکان بھی ہوتا ہے۔

انھوں نے یہ نصیحت اس کی بھلائی کے خیال سے کی تھی، لیکن وہ سمجھا کہ بزرگ اسے ٹالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شیخ‌ سعدی کو کہنے لگا، یہ بات ٹھیک ہے، لیکن جو لوگ ایمان داری اور محنت سے اپنا کام کریں، انھیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ نے سنا ہو گا کہ میلے کپڑے ہی کو دھوبی پٹرے پر مارتا ہے۔

شیخ صاحب نے اسے پھر سمجھایا کہ تُو ٹھیک کہتا ہے۔ سانچ کو آنچ نہیں، بہت مشہور بات ہے، لیکن بادشاہوں اور حاکموں کے بارے میں لومڑی کی سی احتیاط برتنی چاہیے جو گرتی پڑتی بھاگتی چلی جاتی تھی۔ کسی نے پوچھا کہ خالہ لومڑی کیا مصیبت پڑی ہے جو یوں بھاگی چلی جا رہی ہو؟ لومڑی بولی، میں نے سنا ہے بادشاہ کے سپاہی اونٹ بیگار میں پکڑ رہے ہیں۔ اس نے ہنس کر کہا، عجب بے وقوف ہے، اگر اونٹ پکڑے جا رہے ہیں تو تجھے کیا ڈر؟ تُو لومڑی ہے۔ لومڑی نے جواب دیا، تیری بات ٹھیک ہے، لیکن اگر کسی دشمن نے کہہ دیا کہ یہ اونٹ کا بچّہ ہے، اسے بھی پکڑ لو تو میں کیا کروں گی؟ جب تک یہ تحقیق ہو گی کہ میں لومڑی ہوں یا اونٹ کا بچّہ، میرا کام تمام ہو چکا ہو گا۔ مثل مشہور ہے کہ جب تک عراق سے تریاق آئے گا، وہ بیمار چل بسا ہو گا جس کے لیے تریاق منگوایا گیا ہو گا۔

یہ سُن کر بھی منشی نے اپنی فریاد جاری رکھی۔ شیخ نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے اسے بادشاہ کے دربار میں ملازمت دلوا دی، شروع شروع تو اسے ایک معمولی کام ملا لیکن وہ آدمی قابل تھا، اس لیے بہت ترقّی کر گیا اور عزّت و آرام کے ساتھ زندگی گزارنے لگا۔

شیخ صاحب انہی دنوں حج پر چلے گئے اور جب لوٹے تو دیکھا کہ وہ منشی بھی ان کے استقبال کو آیا ہوا ہے، لیکن اس کی حالت سے پریشانی ظاہر ہوتی تھی۔ حالات پوچھے تو اس نے کہا دربار میں بھیجنے سے پہلے آپ نے جو بات کہی تھی، وہ بالکل ٹھیک تھی۔ میں نے اپنی قابلیت اور محنت سے ترقّی کی تو حاسد بھی پیدا ہوگئے اور انھوں نے الزام لگا کر مجھے قید کروا دیا۔ اب حاجیوں کے قافلے لوٹنے کی خوشی میں شاہی حکم پر قیدیوں کو آزاد کیا گیا ہے، تو اسی میں مجھے بھی رہائی نصیب ہوئی ہے۔ ورنہ بادشاہ نے تو یہ جاننے کی کوشش بھی نہ کی کہ میں بے گناہ ہوں اور الزام کی تحقیق تک نہ کروائی۔ شیخ سعدی نے افسوس کا اظہار کیا اور منشی اپنی راہ ہولیا۔

حضرت شیخ سعدیؒ سے منسوب مختلف کتب میں منقول اس حکایت میں بادشاہوں اور حاکم و امرا کا قرب حاصل کرنے کے بجائے قناعت اور صبر کا راستہ اپنانے کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ اس وقت کے مطلق العنان بادشاہوں کی ہر الٹی سیدھی بات قانون کی حیثیت رکھتی تھی اور دربار سازشی عناصر سے بھرے رہتے تھے اور اکثر ان کی وجہ سے منشی جیسے قابل اور سیدھے سادے لوگ مشکل میں گرفتار ہو جاتے تھے۔ آج کے صاحبِ اختیار لوگوں کا بھی یہی معاملہ ہے، طاقت ور اور بااختیار اگر عدل و انصاف کرنے اور اپنی عقل سے کام لینے سے قاصر ہو تو اس کا قرب خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں