The news is by your side.

Advertisement

کلائمٹ چینج کی عالمی کانفرنس میں پاکستان کو مدعو کیا جائے: امریکی رکن کانگریس

واشنگٹن: امریکی رکن کانگریس شیلا جیکسن نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کی عالمی کانفرنس میں بلانے کا مطالبہ کردیا، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل سے نبرد آزما ہے۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق امریکی رکن کانگریس شیلا جیکسن لی نے امریکی صدر جو بائیڈن کے نمائندہ خصوصی جان کیری کو خط لکھ کر کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کی امریکا میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں مدعو کیا جائے۔

اپنے خط میں شیلا جیکسن نے کہا ہے کہ پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل سے نبرد آزما ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث دریاؤں کو خطرات کا سامنا ہے، پاکستان خطے میں امریکا کا اہم اتحادی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے معاملے پر اسلام آباد کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔

ہیوسٹن سے منتخب ڈیمو کریٹ رکن کانگریس شیلا جیکسن پاکستان کاکس کی بھی چیئر پرسن ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے ماحولیاتی تبدیلی پر 22 اور 23 کو ایک ورچوئل سمٹ / کانفرنس کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلے میں 40 عالمی رہنماؤں کو مدعو کیا گیا ہے۔

یہ سمٹ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جانے کے بعد امریکا دوبارہ پیرس معاہدے میں شامل ہوا ہے اور رواں سال نومبر کے دوران اسی موضوع پر گلاسگو میں اقوام متحدہ کی کانفرنس ہونے جا رہی ہے۔

بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان نے برطانوی اخبار دی ٹائمز میں ایک مضمون لکھ کر نہایت مفصل انداز میں ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔

وزیر اعظم نے آرٹیکل میں پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی سے درپیش مسائل کو اجاگر کیا، انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال گرمیوں میں پاکستان نے صدی کی بدترین بارش کا سامنا کیا جب مون سون بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔

انہوں نے لکھا کہ ماحولیاتی کانفرنس کوپ 26 کو معاشی معاہدے کے بغیر ناکام دیکھ رہا ہوں، میرے نزدیک ماحولیاتی کانفرنس کو معاشی معاہدوں سے جوڑا جانا چاہیئے۔

وزیر اعظم نے اپنے آرٹیکل میں لکھا کہ گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس میں پاکستان کا آٹھواں نمبر ہے، یہی وجہ ہے کہ گذشتہ 20 سالوں کے دوران 152 مواقع پر پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے براہ راست متاثر ہوا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں