The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی آئی کارکنوں‌ کا برہان انٹر چینج پر قیام، پولیس کی شیلنگ

اٹک: وزیراعلیٰ کے پی کے کی قیادت میں پی ٹی آئی کے قافلے برہان انٹرچینج پہنچ گئے جہاں پولیس نے انہیں دیکھتے ہی شیلنگ شروع کردی، کارکنوں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا،شیلنگ سے کئی کارکن بے ہوش اور متعدد کی حالت غیر ہوگئی، کارکنوں نے جھاڑیوں کو آگ لگادی۔

تفصیلات کے مطابق ہارون آباد پل پر شیلنگ اور رکاوٹیں بے سود ثابت ہوئیں، حکومت کی وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کو پنجاب میں داخلے سے روکنے کی کوششیں ناکام ہوگئیں، وزیراعلیٰ اور کارکنان کنٹینر ہٹا کر ہارون آباد پل پار کرکے اسلام آباد کے نزدیک برہان  انٹرچینج  پہنچ گئے۔

ہارون آباد پل کی طرح ایک بار پھر پی ٹی آئی کے کارکنان اور پولیس کے دستے آمنے سامنے آگئے،پولیس کے دستوں نے انہیں دیکھتے ہی شیلنگ شروع کردی،پی ٹی آئی کے کارکنوں ںے یہاں پہنچتے ہی وہاں موجود جھاڑیوں کو آگ لگادی تاکہ شیلنگ کا اثر کم ہوسکے۔

یہاں موجود نمائندہ اے آر وائی نیوز لیئق الرحمان کے مطابق وہاں صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے، ہارون آباد کی طرح ایک بار پھر یہاں بھی افراتفری کا منظر ہے، شدید  آنسو گیس شیلنگ کے سبب متعدد کارکنان بے ہوش ہوگئے اور متعدد کی حالت خراب ہوگئی جب کہ دیگر کارکنوں کی آنکھوں سے پانی رواں ہے اور وہ مسلسل گیلے رومال، پانی اور نمک کی مدد سے شیل گیس کے اثرات کم کرنے میں مصروف ہیں،یہاں موجودہ پہاڑیوں پر بھی پولیس اہلکار تعینات ہیں، تاریکی بھی بہت ہے جب کہ ہوا کی شدت میں اضافے سے بھی گیس کے پھیلائو میں اضافہ ہوا اور کارکنان زیادہ متاثر ہوئے۔

رپورٹر نے بتایا کہ انٹر چینج پر پولیس کے ساتھ آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا اور سی پی او راولپنڈی بھی موجود ہیں، پولیس کی بھاری نفری کے سبب کارکنوں کو کنٹینر ہٹانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ایک اور رپورٹر نے  بتایا کہ برہان انٹر چینج کے دونوں اطراف کھائی ہے جس کے سبب کارکنوں کو مجبوراً انٹر چینج کے اوپر سے ہی گزرنا ہے اور وہاں پولیس کی بھاری نفری کنٹینر لگا کر کھڑی ہے جس کے سبب کارکنوں کی مشکلات بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں تاہم پی ٹی آئی کے قافلوں میں شامل دو کرینیں کنٹینر ہٹانے کے لیے پہنچ گئی ہیں۔

قافلے کی قیادت کرنے والے وزیر اعلیٰ  پرویز خٹک ںے کارکنوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے رات یہیں پر  گزاریں  صبح کنٹینر ہٹاتے ہی بنی گالا روانہ ہوں گے، وہ خود بھی رات کو یہیں رہیں گے۔

اے آر وائی نیوزکے پروگرام  الیونتھ آور میں میزبان وسیم بادامی سے ٹیلی فونک گفت گو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک نے کہا کہ ، پولیس شیلنگ کررہی ہے، ہمارے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں ہیں، میں انہیں گن نہیں سکا۔

انہوں نے کہا کہ بنی گالہ پہنچیں گے اور عمران خان سے ملاقات کریں گے، ہمارے ساتھ جیسا کروگے ہم ویسا کروگے، ہمیں اینٹ ماری ہے ہم پتھر ماریں گے، میری جماعت کا لیڈرجو بھی فیصلہ کرے گا ہم اسے قبول کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو بتایا کہ راستے بند کرنا آئین کا حصہ نہیں، ایسا لگ رہا ہے ہم کسی دشمن ملک میں جارہے ہیں، کس آئین میں لکھا ہے کہ سڑکیں بند کردی جائیں اور کسی کو آگے جانے نہیں دیا جائے، میں دعا کرتا ہوں کہ ہمارے کارکن باغی نہ ہوجائیں، حکومت کو تو عدالت نے بھی کہا ہے کہ راستے بند نہ کریں لیکن انہوں نے نہیں مانا۔

دریں اثنا عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے ٹوئٹ کیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ عمران خان کو بنی گالا سے نیچے آجانا چاہیئے، کارکنان انتظار کررہے ہیں۔

ہارون آباد میں قافلے پر شیلنگ کی صورتحال

قبل ازیں اس قافلے پر ہارون آباد میں بھی بھرپور شیلنگ کی گئی اور کنٹینر لگا کر راستہ بند کردیا گیا تھا، اے آر وائی نیوز کے رپورٹر ظفر کے مطابق تحریک انصاف کے کارکنان کی بڑی تعداد ہارون آباد پل پر جمع ہو گئی تھی اور جیسے ہی یہ اجتماع پل کراس کرنے کے لیے آگے بڑھا تو پہلے سے موجود مستعد پنجاب پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ شروع کردی جس کے بعد مجمع میں بھگڈر مچ گئی۔

یہ پڑھیں: جب تک زندہ ہوں یہاں سے جانے والا نہیں، پرویز خٹک

شیلنگ کے باعث کارکنان اور میڈیا نمائندوں کی حالت نازک ہو گئی اور لوگوں کا سانس لینا دشوار ہو گیا،کارکنان نے پنجاب پولیس اور وفاقی حکومت کے خلاف نعرے  لگائے۔

اسی سے متعلق:ملک سول وار کی طرف بڑھ رہا ہے، نواز شریف استعفی دیں،شیخ رشید

پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کے باعث آس پاس اگی جھاڑیوں میں آگ لگ گئی جس کے باعث میدانی علاقوں میں جانا ناممکن ہو گیا۔ دوسری جانب ہارون آباد پل پر آنسو گیس کے شیلنگ کا دھواں بھرنے سے کارکنان نے منہ پر کپڑے باندھ لیے ہیں اور بار بار منہ دھونے لگے۔

خیبر پختونخوا کے مشیر مشتاق غنی بھی اپنی گاڑی میں موجود تھے جب کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی قیادت میں ایک قافلہ ہارون آباد پل پر پہنچا، صورت حال کی فضائی نگرانی بھی کی گئی۔

تین گھنٹے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں نے کنٹینر اور مٹی کے ڈھیر ہٹانے شروع کردیے، وزیراعلیٰ کے قافلے میں کرینوں نے کنٹینر اور شاول نے مٹی ہٹائی جب کہ پولیس اہلکارآہستہ آہستہ پیچھے چلے گئے۔

بعدازاں نعرے لگاتے ہوئے کارکنان ہارون آباد پل پار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

یہ پڑھیں:عمران خان کی کارکنان کو ہارون آباد پُل پر پہنچنے کی ہدایت

رہنما پی ٹی آئی مشاق غنی نے کہا کہ یہ مقابلہ ن اور جنون کے درمیان ہے، کارکنان رکاوٹیں ہٹارہے ہیں، پولیس پیچھے چلی گئی ہے، راستہ بنائیں گے اور آگئی جائیں گے، پیچھے ہرگز نہیں جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کے غیر جمہوری اقدامات قابل مذمت ہیں،اپوزیشن رہنما

نمائندہ اے آر وائی لئیق الرحمان  نے بتایا کہ ہارون آباد پل کے اوپر سے تین سو سے چار سو کارکن موٹر وے پر آئے، رکاوٹیں، بڑی گاڑیوں کی جگہ بنائی گئی،برہان انٹرچینج کا ہارون آباد پل سے فاصلہ 35 کلومیٹر ہے،گاڑیوں پر جانے میں آدھا گھنٹے لگا، کارکنان بڑی تعداد میں اکٹھا ہوکر برہان انٹرچنیج کی طرف روانہ ہوئے۔

حکومت نے برہان انٹرچینج بند کردیا

دوسری جانب حکومت نے ہارون آباد پل پر مظاہرین کو روکنے کی ناکامی کے بعد فوری طور پر برہان انٹرچینج کو بند کردیا۔

اسی سے متعلق:اگرناگزیرہوا تو دھرنے میں خود شرکت کروں گا، ڈاکٹرطاہرالقادری

ہارون آباد پل سے نمائندہ ظفر اقبال نے براہ راست بتایا کہ تمام کنٹینر ایک سائیڈ کردیے گئے ہیں، وزیراعلیٰ کی قیاد ت میں تحریک انصاف کا قافلہ  اسلام آبا د کی جانب رواں دواں ہے، کارکنان نعرے  لگارہے ہیں، ہر گاڑی میں تحریک انصاف کے گانے لگے ہویے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کارکنان یہ پہلی رکاوٹ ہٹنے پر بہت خوش ہیں اور کہتے  ہیں کہ صبح کا یہ ناشتہ وہ بنی گالہ میں عمران خان کے ساتھ کریں گے۔

ایک اور نمائندے نے بتایا کہ یہاں سے پانچ سے چھ کنٹینر ہٹائے گئے ہیں جنہیں کرین سے ہٹایا گیا جب کہ شاول سے مٹی ایک طرف کی گئی۔اس موقع پر تحریک انصاف کے کارکنوں نے پولیس کے فائر کردہ سیکڑوں شیل میڈیا کو دکھائے۔

برہان انٹرچینج پر موجود نمائندہ اے آر وائی لئیق الرحمان نے بتایا تھا کہ برہان انٹر چینج کارکنوں کی اگلی رکاوٹ ہے، کنٹینر اس طرح لگائے گئے ہیں کہ انہیں ہٹانے میں دقت پیش آئے گی ، قافلہ جب برہان انٹرچینج پہنچے گا تو انہیں بڑی مشکلات کا سامنا ہوگا، یہاں شدید تاریکی ہے، لائٹوں کا بھی انتظام نہیں، تقریبا ایسی ہی صورتحال ہے جو ہارون آباد پل پرتھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں