The news is by your side.

Advertisement

’عورت مارچ سے بے حیائی پھیلائی گئی‘

کراچی: شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار بہروز سبزواری کے صاحبزادے اداکار شہروز سبزواری کا کہنا ہے کہ اہلیہ صدف میرے جوتے اٹھا سکتی ہے تو مجھے بھی اس کے جوتے اٹھانے میں کوئی عار نہیں ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’ہر لمحہ پرجوش‘ میں اداکار شہروز سبزواری نے شرکت کی اور میزبان وسیم بادامی کے معصومانہ سوالات کے جوابات دیے۔

شہروز سبزواری نے بتایا کہ والد کے شوبز میں ہونے کا فائدہ ہوا، والد بہروز سبزواری سے کبھی مار نہیں کھائی۔

بہروز سبزواری زیادہ اچھے اداکار ہیں یا ماموں جاوید شیخ؟ اس کے جواب میں شہروز سبزواری نے کہا کہ دونوں کی اداکاری کمال کی ہے کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔

فیمنیزم سے متعلق اہلیہ صدف کے بیان پر شہروز نے ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر صدف میرے جوتے اٹھا سکتی ہیں تو میں بھی ان کے جوتے اٹھا سکتا ہوں۔

صدف نے یہ بیان اپنے لیے دیا تھا لوگوں کے لیے نہیں لیکن پھر لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر اپنے لیے کہا تھا تو گھر میں بیٹھ کر کہتیں میڈیا پر آکر کہنے کی کیا ضرورت تھی۔

شہروز سبزواری نے کہا کہ ہمارے گھر میں بھی یہی کلچر ہے ہمیں یہ سب کچھ حیران کن نہیں لگا، بہت سے لوگوں نے بھی صدف کے اس بیان کی حمایت کی اور ان سے اتفاق کیا۔

می ٹو مہم سے متعلق اداکار نے کہا کہ می ٹو مہم کا فائدہ بہت سامنے آیا ہے جو عورتیں پہلے خاموش رہتی تھیں وہ اب ہیش ٹیگ کے ذریعے اپنی آواز بلند کرسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں می ٹو کا فائدہ ہوا وہیں عورت مارچ کو غلط استعمال کیا گیا اور اس کے ذریعے بے حیائی پھیلی ہے، عورت مارچ صحیح استعمال کیا جائے گا تو اس کے بھی ساتھ ہوں۔

شہروز سبزواری نے مزید کہا کہ محبت ایک بار ہوتی ہے سو بار نہیں ہوتی، مجھے بھی ایک ہی بار ہوئی ہے۔

میزبان وسیم بادامی نے پوچھا کہ عمران خان سے یہ کہہ لیں کہ اب تھوڑا سا گھبرا لیں؟ اس کے جواب میں شہروز نے کہا کہ بالکل نہیں، غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے ان سے پہلے جو حکمران رہ ہیں عمران خان ان سے بہت بہتر ہیں۔

فلم میں آئٹم نمبر سے متعلق شہروز نے کہا کہ آئٹم نمبر کے خلاف ہوں اس صورت میں جب اس کا کوئی سر اور پیر نہیں ہو اور فلم میں شامل کرلیا جائے اگر فلم کی ڈیمانڈ آئٹم نمبر ہے تو اسے سپورٹ کروں گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں