The news is by your side.

Advertisement

بجٹ بدترین بدحالی کی طرف لے جائے گا، شیری رحمان

اسلام آباد: پیپلزپارٹی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ بجٹ الیکشن کے لیے دیا گیا ہے، ٹیکسٹائل بند پڑی ہیں، روزگار نہیں ہے، پیش کیا گیا بجٹ بدترین بدحالی کی طرف لے جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ میں بجٹ پر بحث کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا، شیری رحمان نے کہا کہ بغیر این ایف سی ایوارڈ دئیے گئے بجٹ دیا گیا، مفتاح اسماعیل کو راتوں رات وزیرت بنادیا گیا، مفتاح اسماعیل کو وزیر بنا کر آرٹیکل 91 کا مذاق اُڑایا گیا، اس سے پہلے کسی حکومت نے ایسا اقدام نہیں کیا۔

حکومت ملک میں ایمرجنسی صورتحال چھوڑ کر جارہی ہے

انہوں نے کہا کہ حکومت کہتی ہے ایمرجنسی نہیں، یہ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں، یہ لوگ ایوان کے لیے گڑھے کھود کر جارہے ہیں، موجودہ صورتحال میں فنانشل ایمرجنسی وقت کی ضرورت ہے، تیل کی قیمتیں مزید مہنگی کردی گئی ہیں، جانے والی حکومت ملک میں ایمرجنسی صورتحال چھوڑ کر جارہی ہے۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ ایک کھرب تک پہنچ گیا ہے، توانائی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، ٹیکس کے نام پر حکومت نے چپ چاپ ڈاکا ڈالا ہے، عوام کی قوت خرید پر ڈاکا مارا گیا ہے، حکومتی اقدامات سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافہ ہوگا، ٹیکس کا بوجھ عوام پر ڈالا جارہا ہے۔

رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ حکومت نے قرضہ قرضہ کیا اب اس کے بعد بدحالی ہوگی، ان کا مقصد صرف الیکشن جیتنا ہے، ہم لندن نہیں بھاگیں گے ہمارا جینا مرنا یہی ہے، موجودہ حکومت جواب دہ ہے یہ ہمارا فرض بنتا ہے، بڑی گاڑیوں میں آتے ہیں ہمیں اور انہیں زیادہ ٹیکس دینا چاہئے۔

اگلی حکومت مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ جائے گی

شیری رحمان نے کہا کہ اگلی حکومت مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ جائے گی، شاید ان کی سوچ یہ ہے کہ ہم تو ڈوبے ہیں تمہیں بھی لے ڈوبیں گے، بدعنوانی کو اشتہاری حکومت نے اشتہار دے دے کر دبا دیا، پیپلزپارٹی کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ سیاست کو مزید جوڈیشلائز نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پارلیمںٹ کو کچھ نہیں سمجھتی ہے، یہ لوگ ووٹ کے تقدس کا نعرہ لگا کر اپنی ذات کے لیے سیاست کررہے ہیں، جو بھی حکومت آئے گی بحران کا شکار ہوگی، عوام پر دباؤ بڑھے گا۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ صدر ممنون حسین کو معلوم ہی نہیں ہوگا کہ ایک دن کا خرچہ 98 لاکھ ہے، ایوان صدر کا ایک دن کا خرچہ 98 لاکھ ہے، سن کر شرم آتی ہے، ہمارے دور میں ایک دن میں 6 لاکھ کا خرچہ ہونے پر آصف زرداری نے سوال پوچھا تھا، ایسی صورتحال میں بجٹ مسترد نہیں کریں تو اور کیا کریں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں