شرعی عدالت کی حکم عدولی کرنیوالے شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا -
The news is by your side.

Advertisement

شرعی عدالت کی حکم عدولی کرنیوالے شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا

لاہور: کالعدم مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کی جانب سے قائم کی گئی مبینہ ‘شرعی عدالت’ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں قانونی چارہ جوئی کرنے والے پراپرٹی ڈیلرخالد افتخار کو عدالت جاتے ہوئے 2 نامعلوم ملزمان نے اغواء کرنےکے بعد تشدد کا نشانہ بنایا۔

تفصیلات کے مطابق جماعت الدعوۃ کی‌جانب سے قائم کی‌گئی شرعی عدالت‌ ‘دارالقضاء شریعہ’ کے فیصلے کے خلاف‌ لاہور ہائی کورٹ میں کیس‌ دائر کرنے‌والے‌ پراپرٹی ڈیلر خالد سعید کو 2 باریش افراد نے سمن آباد کے قریب عدالت جاتے ہوئے اغوأ کر کے میانی صاحب قبرستان لے جا کر تشدد کا نشانہ بنا کر بے‌ہوش‌کر دیا اور فرار ہوگئے۔

واضح رہے کہ ‘دارالقضاء شریعہ’ کے قاضی نے خالد سعید کو چوبرجی میں واقع اپنے ہیڈکوارٹرز میں ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کے دفاع کے لیے طلب کیا تھا، تاہم پراپرٹی ڈیلر نے ان کے ‘احکامات’ پر عمل کرنے کے بجائے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

کیس دائر کرنے کے بعد ایک روز اچانک انہیں دو باریش افراد اپنے ہمراہ لے گئے جہاں انہیں ذبردستی جوس پلایا اور تشدد کا نشانے بناتے ہوئے جماعۃ الدعوہ کے خلاف کیس واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا اور کیس واپس نہ لینے پر سنگین نتائج کا سامنا کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے اور انہیں بے ہوش چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

جس کے‌بعد‌ خالد افتخار کو علاقہ مکینوں نے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انھیں ایمرجنسی وارڈ میں طبی امداد دی، اور ذہریلے جوس کے اثر کو ذائل کرنے کے لیے ان کا معدہ واش کیا گیا۔

خالد سعید پر ہونے والے مبینہ تشدد کے بعد ان کے وکیل ایڈووکیٹ مقبول شیخ نے مذکورہ واقعے کے باعث بینچ سے کیس کو مدعی‌ کی علالت‌کے‌باعث مختصر عرصے کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی۔

ذرائع کے مطابق پولیس کے ایک افسر نے بھی خالد سعید سے ہسپتال میں ملاقات کی اور متعلقہ پولیس اسٹیشن میں واقعے کی اطلاع دی بعدازاں لٹن روڈ پولیس تھانے کے ایک سب انسپکٹر نے ہسپتال میں خالد سعید کا بیان ریکارڈ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ واقعے کی ایف آئی آر لیبارٹری ٹیسٹ کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد درج کی جائے گی۔

دوسری جانب جماعت الدعوۃ اس سے قبل ایسی کسی عدالت کے قیام سے انکار کرتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ وہ صرف تنازعات کو شریعت کی روشنی میں حل کرتی ہے،تاہم‌ جماعت الدعوۃ کا یہ بھی کہنا ہے کہ تنازع میں شامل فریقین کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنا غیر قانونی نہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں