The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں شیعہ عالم کو سزائے موت پرشیعہ ممالک میں احتجاج

ریاض: سعودی عرب میں شیعہ عالم کو سزائے موت دینے کے ردعمل میں شیعہ اکثریتی ممالک میں شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا جارہا ہے، ایران میں سعودی ایمبیسی اورقونصل خانے کو نذرِآتش کردیا گیا۔

56سالہ شیعہ عالم شیخ النمر کو2011 میں سعودی عرب میں حکومت مخالف سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ان کے ہمراہ چھیالیس دیگر افراد کو بھی سزائے موت دی گئی۔

شیخ النمر کی سزائے موت کے خلاف سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی مشرقی صوبے میں شدید احتجاج کیا گیا جبکہ ایران، عراق اور بحرین میں بھی بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

سعودی حکومت کے دیرینہ حریف تہران نے اس معاملے پرشدید ردعمل کا اظہارکیا ہے، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابرانصاری کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت خود شدت پسندی اوردہشت گردی کی حمایت کرتی ہے لیکن اپنے ملک میں ہونے والی تنقید پرسزائے موت دیتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی حکومت کو اپنی ان پالیسیوں کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ کے ترجمان منصورالترکی نے ایران کے ردعمل کو غیرذمہ دارانہ قراردیتے ہوئے تہران کے سفیرکو طلب کرلیا ہے۔

شیخ النمرکی سزائے موت کے ردعمل میں تہران میں مشتعل ہجوم نے سعودی سفارت خانے پر پٹرول بموں سے حملہ کیا اوراسے نذرِآتش کردیا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں