The news is by your side.

Advertisement

‘آپ کیا چاہیں گے کہ آپ کا بیٹا نوازشریف، آصف زرداری یا پھر “عمران خان” بنے’

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ ایسانظام تشکیل دیناچاہتےہیں کہ کوئی سینیٹ الیکشن پر انگلی نہ اٹھا سکے، آپ کیاچاہیں گے کہ آپ کابیٹانوازشریف،آصف زرداری یاعمران خان بنے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن نے2006میں معاہدہ کیا تھا، معاہدے میں سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سےکرانےکاذکرتھا، ان کو10سال ملےانہوں نےاوپن بیلٹ پرعمل کےلیےکچھ نہ کیا، اب اپوزیشن والے کہہ رہے ہیں کہ اس پرمشاورت ہونی چاہیے تھی۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ کون اس کی مخالف کرےگاکہ چیزیں شفاف طریقےسےہونی چاہییں، ایسانظام تشکیل دیناچاہتےہیں کہ کوئی سینیٹ الیکشن پر انگلی نہ اٹھا سکے، شفافیت سےپارلیمنٹ کاایک اخلاقی قوت ملتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن والےنہیں چاہتےکہ سیاست میں پیسےکاعمل دخل ختم ہو، میراکوئی چانس نہیں تھاکہ میں الیکشن جیت سکوں، ہماری پارٹی میں نوجوانوں سمیت بہت لوگوں کوٹکٹ دیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کوبتاناچاہتےہیں کہ ان کوعوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا، اس موقع کےبعد اپوزیشن کورونانہیں ہے، انہوں نے خود کو ماضی سے الگ نہیں کیا اورنہ ایساکرناچاہتےہیں، وہ پارلیمنٹ میں لوگوں کی خریدوفروخت ختم نہیں کرناچاہتے۔

شبلی فراز نے مزید کہا کہ ایک جماعت جس کےپاس ایک سیٹ کی طاقت نہیں اس کارکن سینیٹ میں آجاتاہے، وزیراعظم نے کہا ہے سیٹ کے لیے پارٹی کے لیے جدوجہد کرنےوالوں کوترجیح دی جائے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہروہ شخص جوایمانداراورخدمت کاجذبہ رکھتاہےوہ پی ٹی آئی کارکن ہے، ہم چاہتے ہیں بے داغ ماضی کےافرادکومنتخب کرائیں، ایک ہی شخص کومحبوب بنائےرکھنااوروہ ہےعمران خان۔

سینیٹ ٹکٹ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ کارکردگی کی بنیادپروزیراعظم نےٹکٹ کاجائزہ لیا، اپوزیشن والے بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ان کی طرح ہیں اس لیےالزام بھی لگاتےہیں، آپ کیاچاہیں گے کہ آپ کابیٹانوازشریف،آصف زرداری یاعمران خان بنے۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ آنکھ نےجومنظرنامہ دیکھااس پرہماری توجہ ہے، میرے الیکشن میں 25ہزار626شامل ہےجس میں پیٹرول کاخرچ بھی ہوا ، وزیراعظم ہر ایک کی رائےاورتجاویزسنتے ہیں ،فیصلہ لیکن وہ کرتےہیں جس پراتفاق ہوتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نےتاریخ میں توسیع کردی ہے،ایک دونام شام تک حتمی ہوجائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں