The news is by your side.

Advertisement

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیوں کیا؟ شبلی فراز نے وجہ بتادی

اسلام آباد : وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایسااضافہ نہیں دیکھا، اسی وجہ سے قیمتوں میں نظرثانی کرنا پڑی، عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کوروناوبانے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا، عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایسا اضافہ نہیں دیکھا، اسی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نظرثانی کرنا پڑی۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ خطےکی نسبت پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کم اضافہ ہوا، عوام کی فلاح پہلی ترجیح ہے،ریلیف دینے کی کوشش
کرتے رہیں گے۔

یاد رہے گذشتہ روز حکومت نے اچانک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پچیس روپے سے زائد کا ریکارڈ اضافہ کردیا اور قیمتوں کا اطلاق بھی فوری ہوگیا تھا، فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق پیٹرول 25 روپے58 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوکر 100 روپے10 پیسے ، ہائی اسپیڈ ڈیزل 21 روپے 31 پیسے اضافے سے101 روپے 46 پیسے اور مٹی کا تیل ساڑھے 23 روپے بڑھ کر انسٹھ روپے چھ پیسے پر پہنچ گیا۔

مزید پڑھیں : پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں‌ ریکارڈ اضافہ

لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 17 روپے84 پیسے فی لیٹراضافہ کیاگیا،اس سے قبل پٹرول 74 روپے 52 پیسے فی لیٹراورہائی اسپیڈ ڈیزل 80 روپے15 پیسے کا مل رہاتھا۔

بعد ازاں ملک جاری موجود صورتحال میں قیمتوں میں اضافے پر عوم کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، سخت ردعمل آنے کے بعد وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم و توانائی عمر ایوب نے اپنے ٹویٹ میں قیمت میں اضافے پر وضاحت دیتے ہوئے لکھا کہ ‘عالمی منڈی میں گذشتہ ایک ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بھی دو سے تین روپے گراوٹ آئی ہے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 31.58 روپے کا اضافہ بنتا تھا لیکن حکومت نے اس میں 25.58 روپے کا اضافہ کیا ہے۔ جبکہ ڈیزل لی قیمت میں 24.31 روپے فی لیٹر اضافہ بنتا تھا لیکن حکومت نے اس میں 21.31 روپے اضافہ کیا۔

خیال رہے قیمتوں میں معمول کے مطابق قیمتوں میں رد و بدل لا اطلاق ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے ہوتا ہے تاہم اس مرتبہ نئی قیمتوں کا اطلاق ستائیس جون رات بارہ بجے سے ہی ہو گیا

Comments

یہ بھی پڑھیں