The news is by your side.

’کسی بھی نا خوشگوار واقعے یا عمران خان پر حملے کی ذمے دار وفاقی حکومت ہوگی‘

پی ٹی آئی رہنما سینیٹر شبلی فراز نے لانگ مارچ سے متعلق جاری تھریٹ الرٹ پر کہا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا عمران خان پر حملے کی ذمے دار وفاقی حکومت ہوگی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے حقیقی آزادی لانگ مارچ کے اسلام آباد میں حملے کے حوالے سے جاری تھریٹ الرٹ کے حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی کے چیف آف اسٹاف سینیٹر شبلی فراز کا بیان سامنے آیا ہے۔

شبلی فراز نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 26 نومبر مارچ کے حوالے سے اسلام آباد انتظامیہ سے رابطے میں ہیں۔ لانگ مارچ میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا عمران خان پر حملے کی ذمے دار وفاقی حکومت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج اور مارچ پُر امن ہوتے ہیں اس میں فیملیز شرکت کرتی ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ کی ذمے داری ہے کہ فول پروف سیکیورٹی فراہم کریں۔ اگر مارچ کے شرکا پر تشدد بالخصوص عمران خان پر کوئی حملہ ہوا تو اس کی ذمے دار وفاقی حکومت ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزارت داخلہ نے لانگ مارچ پر خودکش یا بم حملے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو پنڈی میں اپنا احتجاج موخر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے اس حوالے سے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری جنرل خط اسد عمر کو مراسلہ ارسال کیا گیا جس میں ملک میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ انتہا پسند جماعتیں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر دہشت گردی کا حملہ کر سکتی ہیں۔

اس حوالے سے وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ حملے میں بیرونی عناصر کی جانب سے بھی کارروائی کا اندیشہ ہے۔ عوامی اجتماعات کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور ان میں خود کش یا بم حملہ بھی ہوسکتا ہے اس لیے پی ٹی آئی اپنا پنڈی میں عوامی احتجاج موخر کرے۔

وزارت داخلہ نے پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کو ممکنہ خطرات کے پیش نظر وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں کو بھی خط لکھا ہے۔ اور رسک اسسمنٹ رپورٹ بھجوائی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق عمران خان کے ساتھ عام شہریوں کی جان کوخطرہ ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی پر وزیر آباد میں حملہ ہوچکا ہے اور وہاں ایک شخص کی جان جاچکی ہے۔ کسی بنیاد پرست نوجوان کی جانب انتقامی کارروائیوں کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے جائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں