The news is by your side.

Advertisement

شکارپور آپریشن میں ناکامی، پولیس کے اعلیٰ‌ افسران کے تبادلے

لاڑکانہ: سندھ کے ضلع شکار پور میں ہونے والے آپریشن میں ناکامی کے باعث ایس ایس پی شکار پور کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب سے بھی عہدہ واپس لینے پر غور کیا جارہا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سندھ کے ضلع شکار پور کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف ہونے والے آپریشن میں پانچویں روز بھی ناکامی کے باعث ایس ایس پی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

ڈی آئی جی لاڑکانہ کی ٹیم نے آپریشن کی سربراہی کی،  جس کی وجہ سے ناصر آفتاب کو بھی عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سندھ پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آپریشن سے متعلق بریفنگ کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دونوں افسران کے تبادلے کیے۔

وزیراعلیٰ سندھ سے صحافی کے سخت سوالات

وزیراعلیٰ سندھ سے شکار پور میں میڈیا بریفنگ کے دوران صحافی نے سخت سوالات کیے اور پوچھا کہ  4ماہ میں 10جوان شہید،63 اغواہوچکے، آپ کہتےہیں یہ صرف چندڈاکو ہیں؟ کیا آپ وزیراعظم عمران خان کے اعلان کےبعدجاگے ہیں؟۔

صحافی کے سخت سوالات پر مراد علی شاہ نے کہا کہ ’آپ جومرضی سمجھیں، میں پہلےہی بات کرچکا، آپ کے تبصرے اپنی جگہ ہیں، جن کو میں سمجھ سکتا ہوں‘۔

شکارپورکےکچےمیں ڈاکوؤں کےخلاف آپریشن جاری

شکار پور کچے کے علاقے میں واقع گاؤں گڑھی تیغو میں پانچویں روز بھی ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن جاری رہا، جس کی وجہ سے علاقے میں کرفیو جیسی صورت حال رہی اور لوگ گھروں میں ہی محصور رہے‘۔ پولیس کے لاؤڈ اسپیکرپرلوگوں کوگھروں سےنہ نکلنے کے اعلانات بھی کیے۔

قبل ازیں پولیس نے کچے کے علاقے میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ایک مغوی کو بازیاب کروایا جبکہ آپریشن کرنے والے افسر نے دعویٰ کیاکہ انہوں نے ڈاکوؤں کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے۔

ڈاکوؤں نے پولیس کی بکتربند گاڑی پر حملہ کیا اور تین پولیس اہلکاروں کو اغوا کرلیا تھا، جنہیں کچھ دیر بعد قتل کر کے پھینک دیا گیا تھا۔ ڈاکوؤں نے اس سارے معاملے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں