شکارپور (06 جون 2026): سندھ کے شہر شکارپور میں کچے کے علاقوں میں جاری نجات مہران پولیس آپریشن کے دوران 60 ڈاکوؤں نے سندھ حکومت کی سرینڈر پالیسی کے تحت اپنے ہتھیار ڈال کر خود کو قانون کے حوالے کر دیا۔
ایس ایس پی شکارپور محمد کلیم ملک کے مطابق سرینڈر کرنے والوں میں بیلو تیغانی، بڈانی، سبزوئی اور دیگر بدنام زمانہ جرائم پیشہ گینگز کے ارکان شامل ہیں، جو قتل، ڈکیتی، رہزنی، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین جرائم کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ایک کروڑ روپے انعام یافتہ اور 102 مقدمات میں مطلوب خطرناک ڈاکو بیلو تیغانی نے بھی اپنے ساتھیوں سمیت سرینڈر کر دیا ہے، جس کو نجات مہران آپریشن کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
سرینڈر کی مرکزی تقریب پولیس ہیڈکوارٹر گراؤنڈ شکارپور میں ہوئی، جہاں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
حکومت نے آزاد کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی
سرینڈر کرنے والے ملزمان میں عبدالرحمان تیغانی (20 لاکھ روپے انعام)، منظور جعفری (20 لاکھ روپے انعام)، محرم تیغانی (30 لاکھ روپے انعام)، علی گل (50 لاکھ روپے انعام)، وحید سبزوئی، ٹوڑو عرف میر شر، سلطان بجارانی اور بشیر بھیو (20،20 لاکھ روپے انعام) جب کہ منظور تیغانی (10 لاکھ روپے انعام) شامل ہیں۔
تقریب کے دوران سرینڈر کرنے والے افراد نے اپنے ہتھیار حکام کے حوالے کیے اور آئندہ جرائم سے دور رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ایس ایس پی محمد کلیم ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرینڈر کرنے والے تمام افراد سے قانون اور آئین کے مطابق نمٹا جائے گا اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔
انھوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کی سرینڈر پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے افراد کو قانونی عمل سے گزرنا ہوگا اور عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


