اسلام آباد (11 جولائی 2026): بحری شعبے میں 99 اصلاحاتی سفارشات میں سے 84 پر عمل درآمد مکمل ہو گیا، شپنگ، بندرگاہوں اور گوادر کی ترقی کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔
بحری امور عمل درآمد کمیٹی نے اپنی کارکردگی اور پیش رفت سے متعلق پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر اگست 2024 میں قائم کی گئی میری ٹائم ٹاسک فورس نے بحری شعبے کی بہتری کے لیے 99 اصلاحاتی سفارشات مرتب کیں، جن میں سے 84 پر عمل درآمد مکمل جب کہ باقی پر پیش رفت جاری ہے۔
شریک چیئرمین میری ٹائم ٹاسک فورس افتخار راؤ نے کہا کہ پاکستان کی 80 فی صد سے زائد تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے، اس لیے بحری معیشت کو قومی ترقی کا اہم ستون بنایا جا رہا ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
انھوں نے کہا کہ گڈانی شپ بریکنگ انڈسٹری کی بحالی کے لیے ہانگ کانگ کنونشن پر عمل درآمد، بلوچستان شپ ری سائیکلنگ ایکٹ کے نفاذ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق یارڈز کی اپ گریڈیشن پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق گوادر سمیت موجودہ بندرگاہوں کی استعداد بڑھانا، ریل رابطے کی بہتری، قومی پورٹس ماسٹر پلان، شپ بلڈنگ، شپ ری سائیکلنگ، فشریز اور بلیو اکانومی کا فروغ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
پریس کانفرنس میں ممبر ایف بی آر محبوب نے بتایا کہ میری ٹائم شعبے کے لیے متعدد ٹیکس رعایتیں دی گئی ہیں، شپنگ پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جب کہ کسٹمز نظام کو ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ غیر قانونی تجارت کے خلاف اقدامات کے نتیجے میں ٹائروں، فیبرکس، ٹائلز اور الیکٹرانکس کی قانونی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ممبر کسٹمز شکیل شاہ نے بتایا کہ اے آئی پر مبنی جدید کسٹمز نظام، ریئل ٹائم کارگو ٹریکنگ اور ڈیجیٹل نگرانی کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے، جب کہ قومی شپنگ پالیسی رواں ماہ وفاقی کابینہ کو منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر کی ڈیجیٹلائزیشن، ویسل ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، شپ ری سائیکلنگ، قومی ڈریجنگ کمپنی اور بندرگاہوں کی مربوط ترقی پر تیزی سے کام جاری ہے، جس سے پاکستان کی بحری تجارت، سرمایہ کاری اور قومی معیشت کو نمایاں فروغ ملنے کی توقع ہے۔


