مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آرہا ہے، جہاں ’ایک ہزار‘ بحری جہاز گزرنے کے منتظر ہیں۔
مشرقی وسطیٰ میں حالیہ کشیدہ صورتحال اور آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے باعث دنیا کے مختلف ممالک میں توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ایک ہزار کے قریب بحری جہاز لنگر انداز ہیں اور آبنائے ہرمز کھلنے کے منتظر ہیں۔ جن میں 200کے قریب خام تیل بردار بحری جہاز بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
اس صورتحال میں پاکستان بھی اپنے تیل کے ذخائر پر پڑنے والے اثرات کا سامنا کر رہا ہے جس کے پیشِ نظر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں قابلِ ذکر اضافہ کیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مارچ 2026 کے اوائل میں آبنائے ہرمز میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں آئل ٹینکرز نے گزرنے کے بجائے کھلے سمندر میں لنگر انداز ہونا شروع کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں تجارتی جہازوں پر متعدد حملے بھی کیے گئے، جس کے بعد خطے میں بحری سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جزوی ناکہ بندی نافذ کردی ہے اور صرف ان ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جنہیں ایران اپنا دشمن نہیں گردانتا۔
بین الاقوامی بحری ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور حملوں کے خدشے کے باعث متعدد شپنگ کمپنیوں نے عارضی طور پر اپنے جہازوں کی نقل و حرکت روک دی ہے۔
ایران، اسرائیل اور امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریں
واضح رہے کہ یہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر تیل بردار جہازوں بڑی تعداد گزرتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


