سابق اسپیڈ اسٹار شعیب اختر نے کہا ہے کہ جب سے میں ریٹائر ہوا ہوں میں نے پہلے دن سے توبہ کی تھی کہ میں نے پی سی بی میں کبھی نہیں جانا۔
اے آر وائی کے پروگرام میں میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کرکٹر شعیب اختر نے کہا کہ پی سی بی میں جو بھی گیا ہے آج تک وہ عزت سے باہر نہیں آیا، تو میں نے کبھی کوشش بھی نہیں کی، ٹی وی پر کام کرتا ہوں وہ پیسے دیتے ہیں بیٹھ جاتا ہوں، مجھے کوئی دلچپسی نہیں ہے اور ان کو تگڑے بندے چاہیے ہی نہیں ہیں۔
اس موقع پر میزبان محمد مالک نے کہا کہ میں آن ایئر کلیئر کردوں کہ آپ میری دوستی اور محبت میں آئے ہیں ہم نے اسکے لیے آپ کو کوئی معاوضہ نہیں دیا، یہ کام آپ مفت کررہے ہیں۔
شعیب اختر نے کہا کہ بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شعیب اختر نے کہا کہ انھوں نے رانجی ٹرافی میں سرمایہ کاری کی 70 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کرکٹر ایک دن کا معاوضہ لیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں ڈویژنل اور ڈپارٹمنٹ کرکٹ ہی ختم کردی، ہماری ڈویژن کرکٹ اور ڈومیسٹک کرکٹ ہمیں استحکام فراہم کرتی تھی، اگر پاور شیئرنگ نہیں کی جائے گی تو ٹیلنٹ کہاں سے آئے گا۔
شعیب اختر نے کہا کہ میں نے انھیں ایک پورا پرپوزل بنا کردیا تھا، پی ایس ایل 2.0 کرلیں، 8 نئے ریجن کرلیں، 60 ٹیمیں جمع کرلیں تاکہ 15، 20 ہزار لڑکے کرکٹ کھیلنا شروع کردیں۔
سابق پاکستانی کرکٹر کا مزید کہنا تھا کہ آپ ڈومیسٹک کرکٹ میں پیسے لگائیں اور پیسے کمائیں بھی، یہاں پر میری پی ایس ایل ٹو سے مراد چھوٹے لیول پر ہونے والی کرکٹ ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


