The news is by your side.

Advertisement

’تیز بولنگ کرنے کے لیے ٹرک کھینچتا تھا‘

قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ تیز رفتار بولنگ کرنے کے لیے ٹرک کھینچتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق قومی ٹیم کے سابق اسپیڈ اسٹار شعیب اختر نے بھارتی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ تیز بولنگ کرنا آسان نہیں تھا، فاسٹ بولر نے بتایا کہ یہ کارنامہ انجام دینے کے لیے انہوں نے کس طرح پریکٹس کی۔

انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ 157 اور 158 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرتا تھا لیکن کوشش ہوتی تھی کہ 160 کلو میٹر کی رفتار سے بولنگ کراؤں جو نہیں کر پا رہا تھا۔

شعیب اختر نے ٹریننگ سے متعلق بتایا کہ 160 کلو میٹر اسپیڈ میں مشکل پیش آنے کے بعد میں نے اپنے ساتھ ٹائر کو باندھ کر بھاگنا شروع کیا لیکن ٹریننگ کم لگی پھر اسلام آباد میں رات کے وقت چھوٹی گاڑی کو کھینچنا شروع کیا لیکن وہ بھی کم لگا پھر ٹرک کو تقریباً 5 میل کھینچ کر لےجانے کی ٹریننگ شروع کردی اور ورزش کرتے وقت میں نے ڈمبل کا وزٹ دگنا اٹھانا شروع کردیا۔

سابق فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ میں نے 22 یارڈ پچ کی بجائے26 یارڈ کی پچ پر بولنگ کروانا شروع کی اور 26 یارڈ پر بولنگ کرواکر میں نے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کروانے کا ہدف رکھا، میں نے نئی گیند کی بجائے پھٹی ہوئی گیندوں سے 26 یارڈز کی پچ پر بولنگ کروانا شروع کی۔

مزید پڑھیں: شعیب اختر کا بولنگ ایکشن درست نہیں تھا، سہواگ کے بیان نے طوفان کھڑا کردیا

شعیب اختر نے کہا کہ میں نے اپنے جسم کے میکینکس کے ساتھ تبدیلی کرنا شروع کی، 26 یارڈ کی پچ پر پریکٹس کرنے کے بعدمیری 22 یارڈ کی پچ پر رفتار بڑھ گئی۔

سابق کرکٹرنے ماضی کا قصہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ 2003 کے ورلڈکپ میں ثقلین مشتاق اور اظہر محمود کہہ رہے تھے کہ میں بہت تیز گیند کررہا ہوں بلے باز کو زخمی نہیں کرنا جس پر میں نے ساتھی کھلاڑیوں کو کہا کہ میں ورلڈکپ 2003 میں تیز رفتار بولنگ کا ریکارڈ توڑ دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے 161.3 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرنے کے بعد سوچا کہ اس سے بھی تیز گیند کرسکتا ہوں لیکن پھر انجری کا ڈر تھا اور ورلڈ کپ سے باہر ہوسکتا تھا اسی لیے میں نے اسے اسی وقت چھوڑ دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں