The news is by your side.

Advertisement

شعیب اختر پیدائشی کس خطرناک بیماری کا شکار تھے؟

دنیا کے تیز ترین پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر پیدائشی گھٹنے کی ایسی بیماری کا شکار تھے کہ ڈاکٹرز نے والدہ سے انکے نصف معذور ہونیکا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

شعیب اختر جنہوں نے اپنے کیریئر کے دوران اپنی تیز رفتار بولنگ سے دنیا کے بڑے بڑے بلے بازوں کے چھکے چھڑائے اور انہیں خوف میں مبتلا رکھا پیدائشی طور پر گھٹنے کی ایسی بیماری کا شکار تھے کہ ڈاکٹروں نے ان کی والدہ سے شعیب کے نصف معذور ہونے کے خدشے کا اظہار کردیا تھا۔

شعیب اختر نے اپنے دردناک ماضی سے خود پردہ اٹھایا ہے۔

انہوں نے ایک غیر ملکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں پیدائش سے ہی گھٹنے میں پریشانی تھی، بچپن میں ڈاکٹرز نے ان کی والدہ کو وارننگ دے دی تھی کہ وہ نصف معذور ہوجائیں گے۔ وہ 6 سال کی عمر تک چل نہیں پائے تھے اور رینگ رینگ کر چلتے تھے جب کہ ڈاکٹرز نے ان کی والدہ سے کہہ رکھا تھا کہ یہ نصف معذور ہوجائے گا اور کبھی عام لوگوں کی طرح چل نہیں پائے گا۔

شعیب اخترنے کہا کہ ان ہی تکالیف کے ساتھ میرے کیریئر کا آغاز ہوا اور سال 1999 ہی میرے لیے واحد ایسا سال تھا جو درد سے محفوظ رہا۔

پنڈی ایکسپریس کے نام سے مشہور بولر نے بتایا کہ میرے گھٹنوں کی ہڈی پر ایک اور ہڈی بن گئی تھی۔ تصور کریں کہ میں کس درد سے گزرا ہونگا، یہ بہت خوفناک لمحات تھے میں آئس باتھ کے دوران سوجاتا تھا، کئی بار ٹیم کے ساتھی مجھے آکر جگاتے تھے اور کہتے تھے کہ صبح کے 4 بج چکے ہیں باہر نکلو اور بستر پر سونے جاؤ۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی چوٹ کو چھپاتا تھا کیونکہ اس وقت بہت زیادہ مقابلہ تھا اور میڈیا کو یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ آخر کیوں میں مستقل طور پر نہیں کھیلتا۔

انٹرویو کے دوران شعیب اختر نے انکشاف کیا کہ جلد ہی میلبورن میں ان کے گھٹنے کا دوبارہ آپریشن ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ کیریئر کے دوران 9 سرجری کے ساتھ ساتھ بائیں گھٹنے پر 42 اور دائیں گھٹنے پر 62 انجکشن بھی لگے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں