site
stats
کھیل

شرجیل اور خالد شکرادا کریں‌ ورنہ دبئی کی جیل میں‌ ہوتے، شعیب اختر

اسلام آباد: معروف فاسٹ بولر شعیب اختر نے کہا ہے کہ پی سی بی نے پی ایس ایل میں میچ فکسنگ کے مرتکب کھلاڑیوں کے کیس کو ابتدائی مرحلے میں ہی اپنے ہاتھوں میں لے کر بہت اچھا کیا ورنہ دونوں کھلاڑی دبئی کی جیل میں ہوتے۔

تفصیلات کے مطابق سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے کہا کہ شرجیل خان اور خالد لطیف کو پی سی بی کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ جنہوں نے دونوں کھلاڑیوں کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے پر فوری ایکشن لے کر انہیں ملک واپس بلایا اور صفائی کا موقع بھی دیا اگر وہ دبئی میں ہی پکڑے جاتے تو پانچ سے دس سال تک قید کی سزا ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ شرجیل خان اور خالد لطیف میں سے کوئی بھی جیل یا عدالت جائے بلکہ ٹریبونل ہی اس معاملے کو احسن طریقےسے حل کرنے میں کامیاب رہے اور ملک کی بدنامی نہ ہو تاہم فکسنگ روکنےکیلئےقانون مزیدسخت کرنے ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں شعیب اختر نے کہا کہ 2 سال اور کھیل سکتا تھا لیکن کسی کا انتظار کیے بغیر اپنا کرکٹ بیگ پیک کیا اور ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔

سابق شعیب اختر نے کہا کہ جہاں تک شاہد آفریدی، یونس خان اور مصباح الحق کا معاملہ ہے تو ان تینوں کوفیئر ویل دیناچاہئے، یہ فیئر ویل ڈنر ہی کیوں نہ ہو کیوں کہ قوم کے لیے بہترین کارکردگی دکھانے والے قومی ہیروز کا اتنا حق تو بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی20 فاسٹ بولرز کا نہیں بلکہ اسپنرز کا کھیل ہے جو اگر درست اور نپی تلی بولنگ کریں تو وکٹیں لینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اس لیے ٹی 20 زیادہ تر اسپینرز کو استعمال کرنا چاہیے۔

سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ پی ایس ایل کی کوالٹی یہ ہےکہ اس کی مدد سے پاکستان کو لوکل ٹیلنٹ مل رہاہے اور مقامی نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع مل رہا ہے جس سے وہ یقینی طور پر بہت کچھ سیکھیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top