The news is by your side.

سیاست میں عدم برداشت کا کلچر: متعدد رہنماؤں کو جوتے کھانے پڑے

کراچی: سیاست وہ اہم پیشہ ہے جس کے فرائض کی انجام دہی کے دوران عدم برداشت کا پہلو بہت ضروری ہوتا ہے لیکن بعض اوقات عوام کی جانب سے عدم براداشت کے باعث سیاستدانوں کو جوتے کھانے پڑ جاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ان دنوں ملک میں وفاقی وزراء اور سینئر رہنماؤں پر جوتے اور سیاہی سے حملے کے واقعات سامنے آرہے ہیں لیکن یہ کوئی خاص بات نہیں اس سے قبل بھی پاکستان میں متعدد سیاست دانوں پو جوتے سے وار ہو چکے ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف جوتے کا نشانہ بن گئے

سابق وزیر اعظم نواز شریف آج جب جامعہ نعیمیہ میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران ایک شخص نے ان پر جوتا دے مارا جس کے باعث مجمعے میں بھگدڑ مچ گئی تاہم ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

اس سے قبل وزیر داخلہ احسن اقبال نارو وال میں مسلم لیگ (ن) کے ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے کہ اچانک ایک نوجوان نے ان کی جانب جوتا اچھال دیا جو ان کے ہاتھ میں جالگا، بعد ازاں وزیر داخلہ کے کہنے پر گرفتار ملزم کی رہائی مل گئی۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف پر نوجوان نے سیاہی پھینک دی

علاوہ ازیں گذشتہ دنوں وزیر خارجہ خواجہ آصف سیالکوٹ میں (ن) لیگ کے ورکرز کنونشن سے خطاب کے لیے اسٹیج پر پہنچے ہی تھے ایک شخص نے سیاہی ان کی جانب پھینکی جس کے بعد ان کا چہرہ اور لباس سیاہ ہوگیا۔

خیال کہ پاکستان میں کئی رہنماء جوتا کلب میں شامل رہے ہیں جن میں سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید شامل ہیں جبکہ سابق وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کو سندھ اسمبلی کے اطراف میں نشانہ بنایا گیا اور سابق پاکستانی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف پر انٹرویو کے دوران جوتا اچھالا گیا تھا۔

نارووال:‌ وفاقی وزیر احسن اقبال پر جوتے سے حملہ

جوتا کلب میں شامل عالمی رہنماء

سیاست دانوں پر جوتے سے حملہ نا صرف پا کستان بلکہ دنیا بھر میں ہوتا ہے، ایسے ہی واقعات عالمی منظر نامے پر متعدد بار دیکھنے میں آئیں۔

سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر 2008 میں عراق میں ایک تقریب کے دوران صحافی کی جانب سے جوتا پھینکا گیا جس سے وہ بال بال بچ گئے تھے جبکہ سابق آسٹریلوی وزیر اعظم جان ہاروڈ پر اس وقت ایک شخص نے ان کی جانب جوتا اچھالا جب وہ نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔

علاوہ ازیں سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن پر لاس ایگاس میں تقریب کے دوران ایک خاتون نے جوتے سے حملہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ، بھارتی سابق وزیر داخلہ چدم برم، عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجر یوال، مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ پر بھی جوتوں کے وار ہو چکے ہیں جبکہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور ٹونی بلیئر بھی جوتا کلب کے ممبر رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں