جمعہ, اپریل 17, 2026
اشتہار

دکاندار کا کسی بھی چیز کی ازخود قیمت بڑھا کر فروخت کرنا کیسا؟

اشتہار

حیرت انگیز

دکاندار کا کسی بھی چیز کو اس پر درج قیمت سے زائد پر فروخت کرنا کیسا عمل ہے؟ جبکہ اس قیمت پر دکاندار کو نقصان بھی ہورہا ہو؟

یہ سوال اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام شان رمضان میں ایک دکاندار نے کیا، ان کا کہنا تھا کہ میں ایک عام سا دکاندار ہوں اور کمپنی کی کسی بھی پروڈکٹ کے ڈبے پر جو قیمت درج ہوتی ہے اس میں اتنا منافع نہیں ہوتا بعض اوقات تو بالکل بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کے ساتھ گاہک کو شاپر اور سروس بھی دی جاتی ہے۔

دکاندار کا کہنا تھا کہ کیا ہم اس ڈبے پر درج قیمت کو مٹا کر دس یا بیس روپے بڑھا کر لکھ سکتے ہیں؟ شریعت کی رو سے کیا یہ جائز عمل ہوگا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by ARY Digital (@arydigital.tv)

اس سوال کے جواب میں وہاں موجود اہل تشیع اور اہلسنت علماء کرام نے متفقہ طور پر اس عمل کو ناجائز قرار دیتے ہوئے ایسا کرنے سے منع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈبے پر درج قیمت کی قانونی حیثیت ہوتی ہے اور وہ اسی شرط کے تحت ہوتی ہے کہ اسے اسی قیمت پر فروخت کیا جائے گا اگر دکاندار کو منظور ہے تو لے ورنہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈبے پر قیمت کا درج ہونا کمپنی اور دکاندار کے درمیان ایک معاہدے کی صورت ہوتی ہے جس پر عمل درآمد نہ کرنا ملکی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ کمپنی کی ایسی پروڈکٹس کو ایک مقررہ تعداد میں فروخت کرنے کے بعد دکان دار کو کمیشن بھی دیا جاتا ہے۔

اگر ایسا نقصان ہورہا ہوتا تو ساری دکانیں بند ہوچکی ہوتیں، لہٰذا اس چیز پر اپنی من پسند قیمت کا اسٹیکر لگانا کسی بھی طرح درست عمل نہیں ہے۔

ملک میں مہنگائی میں اضافہ، مزید 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں