دکاندار کا کسی بھی چیز کو اس پر درج قیمت سے زائد پر فروخت کرنا کیسا عمل ہے؟ جبکہ اس قیمت پر دکاندار کو نقصان بھی ہورہا ہو؟
یہ سوال اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام شان رمضان میں ایک دکاندار نے کیا، ان کا کہنا تھا کہ میں ایک عام سا دکاندار ہوں اور کمپنی کی کسی بھی پروڈکٹ کے ڈبے پر جو قیمت درج ہوتی ہے اس میں اتنا منافع نہیں ہوتا بعض اوقات تو بالکل بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کے ساتھ گاہک کو شاپر اور سروس بھی دی جاتی ہے۔
دکاندار کا کہنا تھا کہ کیا ہم اس ڈبے پر درج قیمت کو مٹا کر دس یا بیس روپے بڑھا کر لکھ سکتے ہیں؟ شریعت کی رو سے کیا یہ جائز عمل ہوگا۔
View this post on Instagram
اس سوال کے جواب میں وہاں موجود اہل تشیع اور اہلسنت علماء کرام نے متفقہ طور پر اس عمل کو ناجائز قرار دیتے ہوئے ایسا کرنے سے منع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈبے پر درج قیمت کی قانونی حیثیت ہوتی ہے اور وہ اسی شرط کے تحت ہوتی ہے کہ اسے اسی قیمت پر فروخت کیا جائے گا اگر دکاندار کو منظور ہے تو لے ورنہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈبے پر قیمت کا درج ہونا کمپنی اور دکاندار کے درمیان ایک معاہدے کی صورت ہوتی ہے جس پر عمل درآمد نہ کرنا ملکی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ کمپنی کی ایسی پروڈکٹس کو ایک مقررہ تعداد میں فروخت کرنے کے بعد دکان دار کو کمیشن بھی دیا جاتا ہے۔
اگر ایسا نقصان ہورہا ہوتا تو ساری دکانیں بند ہوچکی ہوتیں، لہٰذا اس چیز پر اپنی من پسند قیمت کا اسٹیکر لگانا کسی بھی طرح درست عمل نہیں ہے۔
ملک میں مہنگائی میں اضافہ، مزید 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


