کراچی : شہر قائد میں بینک ملازم کی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کا ڈراپ سین ہوگیا ، بہنوئی ہی واقعے میں ملوث نکلا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں بہنوئی کی جانب سے اپنے ہی سالے کو اغوا کر کے کروڑوں روپے بٹورنے کا انوکھا واقعہ منظرِ عام پر آیا۔
اینٹی وائلنٹ کرائم سیل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم (بہنوئی) سمیت تین اغوا کاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔
ذرائع نے کہا کہ بینک ملازم بلال ظفر کو 26 مارچ کو اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ ڈی ایچ اے (DHA) میں اپنے دفتر جا رہے تھے۔ اغوا کاروں نے بلال کو اپنی گاڑی میں بٹھایا، سر پر شرٹ ڈال کر چہرہ چھپا دیا اور خود کو "ایجنسی” کا اہلکار ظاہر کیا۔
ملزمان نے چلتی گاڑی میں مغوی پر ساڑھے تین کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ اور کسی ‘رضا’ نامی شخص سے ڈیڑھ کروڑ روپے ادھار لینے کا جھوٹا الزام لگایا۔
اغوا کاروں نے بلال سے کہا کہ "کسی بڑے کو فون کرو جو تمہاری جگہ پیسے دے سکے”۔ بلال نے اپنے بہنوئی علی وحید عباسی کو فون کر کے مدد مانگی۔
اغوا کار مغوی کو سپر ہائی وے اور کلفٹن کی سڑکوں پر گھماتے رہے اور آخر کار کے پی ٹی انڈر پاس پر بہنوئی نے آ کر ملزمان کو 1 کروڑ 70 لاکھ روپے تاوان ادا کیا، جس کے بعد بلال کو رہا کر دیا گیا۔
پولیس کی تفتیش میں معلوم ہوا کہ یہ پوری کارروائی خود بہنوئی علی وحید عباسی کی منصوبہ بندی تھی۔ گرفتار ملزمان میں شامل ہیں ، علی وحید عباسی (مرکزی ملزم اور مغوی کا بہنوئی) ، شہزاد بیگ (SIU کا ریٹائرڈ انسپکٹر) اور پی کیو آر (PQR) کے دو رضاکار اور دیگر ساتھی ہے۔
اے وی سی سی کی ٹیم نے جدید تکنیکی ذرائع استعمال کرتے ہوئے ملزمان کا سراغ لگایا اور انہیں گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ تاوان کی رقم برآمد کی جا سکے اور گروہ کے دیگر کارندوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی اور کرائم رپورٹر ہیں، وہ 14 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔


