جمعہ, مارچ 6, 2026
اشتہار

شارٹ ویڈیوز کیوں نوجوانوں کو ذہنی طور پر کمزور بنا رہی ہیں؟

اشتہار

حیرت انگیز

مختصر ویڈیوز سوشل میڈیا پر نوجوانوں میں بہت تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں اور اب یہ آن لائن مواد کی ایک بڑی شکل بن چکی ہیں۔ یہ ویڈیوز چند سیکنڈ یا چند منٹ کی ہوتی ہیں اور خاص الگوردمز کے ذریعے صارف کی دل چسپی کے مطابق دکھائی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ مسلسل دیکھتے رہتے ہیں۔

ان پلیٹ فارمز میں ویڈیوز خودکار طور پر چلتی رہتی ہیں اور اسکرول ختم نہیں ہوتا، اس لیے صارف کو خود یہ فیصلہ نہیں کرنا پڑتا کہ آگے کیا دیکھنا ہے۔ یہ نظام ناظرین کی توجہ کو مسلسل اپنی طرف رکھتا ہے اور بار بار استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

ماہرین اور ڈاکٹروں کے مطابق ان مختصر ویڈیوز کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔ Psychology Today کی ایک رپورٹ میں 70 تحقیقی مطالعات کا جائزہ لیا گیا، جن سے معلوم ہوا کہ ان ویڈیوز کا زیادہ استعمال ذہنی صحت، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور مجموعی فلاح پر منفی اثر ڈالتا ہے۔

یوٹیوب نے ایک کروڑ ڈالر آمدن والے 16 بڑے اے آئی چینلز ڈیلیٹ کر دیے

تحقیق کے نتائج کے مطابق زیادہ استعمال سے نوجوانوں میں اداسی، ڈپریشن، دباؤ، بے چینی، تنہائی کا احساس، ذہنی سکون کی کمی، نیند کی خرابی اور عادت بن جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر گیری گولڈ فیلڈ کے مطابق یہ مسائل اس وقت زیادہ ہوتے ہیں جب ویڈیوز کا استعمال حد سے زیادہ، جذباتی یا قابو سے باہر ہو جائے۔ مختصر اور تیز ویڈیوز دماغ پر بوجھ ڈالتی ہیں، جس سے توجہ مرکوز رکھنے، صبر اور پڑھائی یا کام پر دھیان دینے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اسے ڈیجیٹل اسٹریس کہا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، یہ ویڈیوز نیند کو بھی متاثر کرتی ہیں اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں جیسے کھیل، دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے، مشغلے اپنانے اور ذاتی ترقی سے دور کر دیتی ہیں۔

نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ مختصر ویڈیوز نوجوانوں کی ذہنی اور ادراکی نشوونما کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اپنے الگوردمز میں بہتری لائیں اور نوجوانوں کے استعمال کو محدود کرنے کے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں