واشنگٹن (11 نومبر 2025): امریکی سینیٹ نے حکومتی شٹ ڈاؤن ختم کرنے کا بل منظور کر لیا، اور اسے ایوانِ نمائندگان کو بھجوا دیا گیا۔
روئٹرز کے مطابق امریکی سینیٹ نے ایک مفاہمتی بل کی منظوری دی ہے، جو امریکا کی تاریخ میں سب سے طویل حکومتی شٹ ڈاؤن (بندش) کو ختم کر دے گا۔
اس فیصلے سے کئی ہفتوں سے جاری تعطل ختم ہو گیا ہے جس کے باعث لاکھوں افراد کی غذائی امداد متاثر ہوئی، لاکھوں وفاقی ملازمین کو تنخواہیں نہیں مل سکیں اور فضائی ٹریفک میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔
60 کے مقابلے میں 40 ووٹوں سے منظور ہونے والا یہ بل تقریباً تمام ریپبلکن ارکان اور 8 ڈیموکریٹس کی حمایت سے منظور ہوا ہے۔ ڈیموکریٹس اس کوشش میں ناکام رہے کہ حکومت کی فنڈنگ کو اُن صحتی سبسڈیوں سے مشروط کیا جائے جو رواں سال کے آخر میں ختم ہونے والی ہیں۔
ٹرمپ کو القاعدہ کے سابق کمانڈر الشرع بھا گئے، شام کی ہر ممکن مدد کا عزم
یہ معاہدہ اُن وفاقی اداروں کی فنڈنگ بحال کر دے گا جن کی مالی اعانت یکم اکتوبر کو ختم ہو گئی تھی، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کی وجہ سے اب وفاقی عملے میں فوری طور پر کمی نہیں لا سکیں گے، کیوں کہ اس نے یہ عمل مؤخر کر دیا ہے، اور اب 30 جنوری تک کسی بھی ملازم کی برطرفی نہیں ہو سکے گی۔
اب یہ بل ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ری پریزنٹیٹوز) کو بھجوایا جائے گا، جو ریپبلکن پارٹی کے کنٹرول میں ہے۔ اسپیکر مائیک جانسن نے کہا ہے کہ وہ اسے بدھ تک منظور کرانا چاہتے ہیں تاکہ صدر ٹرمپ کے دستخط کے بعد یہ قانون بن جائے۔ ٹرمپ نے حکومت کو دوبارہ کھولنے کے اس معاہدے کو ’’انتہائی اچھا‘‘ قرار دیا ہے۔


